راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 47 of 198

راہ ھدیٰ — Page 47

۴۷ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا سکہ قیامت تک چلے گا اور کوئی نہیں جو ایک حرف بھی آنحضرت کے ارشاد کا منسوخ کر سکے۔احمدی عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو واجب العمل نہ سمجھے اس کا ایسا گمان اس کے ایمان کو باطل کرنے والا ہے۔احمدی عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح گذشتہ تیرہ صدیاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیاں تھیں۔اس طرح آئندہ صدیاں بھی صرف اور صرف حضرت محمد رسول اللہ کی صدیاں ہی رہیں گی۔اور ان صدیوں میں صرف وہی دوسروں کو ہدایت دینے کا موجب بنے گا پہلے آپ ہدایت یافتہ ہو۔یہی مطلب جماعت احمدیہ امام مہدی کی آمد کا سمجھتی ہے۔اور انہی معنوں میں اسے امام مہدی تسلیم کرتی ہے۔اگر یہ امام مہدی نہیں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ امام مہدی جنہیں لدھیانوی صاحب جیسے لوگ تسلیم کرنے والے ہوں گے ان کی آمد کے بعد لدھیانوی صاحب صدیوں کی تقسیم کس طرح کریں گے۔کیا لدھیانوی صاحب آنے والے امام مہدی کے متعلق بعینہ وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو احمدیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔کیا اس کے آنے کے بعد آئندہ صدیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونگی یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیاں اس لمحے اختتام پذیر ہو جائیں گی جس لمحے امام مهدی دعوی کریں گے۔ظاہر ہے یہ محض کھوکھلی اور جاہلانہ باتیں ہیں اور عقل اور سمجھ سے خالی چالاکیاں ہیں۔اس کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہیں اور اگر کوئی حیثیت ہے تو پھر ان کے اعتراضوں سے وہ شخص بھی نہیں بچ سکتا جو ان کی دانست میں خدا کی طرف سے بھیجا جائے گا۔" عقیدہ نمبر ۳ " اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں کہ :- قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ ساری دنیا کیلئے بشیر و نذیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔لیکن قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ اب دنیا کا بشیر و نذیر مرزا غلام احمد ہے۔" (صفحہ ۱۷) معزز قارئین! یہ وہی اعتراض ہے جو لدھیانوی صاحب نے " عقیدہ نمبر ۲" کے تحت کیا