راہ ھدیٰ — Page 27
۲۷ کھڑی کرتے جا رہے ہیں ٹیڑھی ہوتی جا رہی ہے ایسے احمقانہ خیال پیش کر رہے ہیں کہ حیرت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو کر اور امام مہدی کی بعثت اور عیسی کے نزول کا قائل ہو کر اس قسم کی لغویات کہنے کی ان کو جرات کیوں ہو گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ امام مہدی اور عیسی کیوں تشریف لائیں گے اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو کیا مولوی صاحب کا سر پھر چکا ہے کہ پھر بھی ان کی آمد کے قائل ہیں۔جماعت احمد یہ تو حضرت مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ ان معنوں میں تسلیم ہی نہیں کرتی۔جو مولوی صاحب کر رہے ہیں کہ من و عن دو سرا محمد پیدا ہو جائے گا ( نعوذ باللہ ) اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے جماعت احمد یہ تو سوائے اس کے اور معنی نہیں لیتی کہ آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق امام مہدی کا آنا اور مسیح کا نازل ہونا گویا آپ کی بعثت ثانیہ ہی ہے۔پس ہمارا تو یہی عقیدہ ہے اس پر اگر مولوی صاحب نے حملہ کرتا ہے تو پہلے مسیح اور مہدی کی بعثتوں کا انکار کرلیں ورنہ ان کا ہر حملہ ان کی خود کشی کے مترادف ہو گا۔ان کی اس جاہلانہ یورش کا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور پر عذاب پہلو یہ ہے کہ در حقیقت احمدیت پر حملہ کرنے کی بجائے حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر حملہ کر رہے ہیں آپ کی پیشگوئیوں پر حملہ کر رہے ہیں اور اس بات کو ذرا بھی محسوس نہیں کرتے اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں صحیح اور مہدی کے آنے کی ضرورت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دی ہے اور جس کے بعد کسی مسلمان کو یہ حق ہی نہیں رہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور اور آپ کی شریعت کے کامل ہو جانے کے باوجود مہدی اور مسیح کی آمد سے انکار کرے۔اور آپ کی پیشگوئیوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھے اور ان سے استہزاء کا سلوک کرے۔قارئین کرام ! امت محمدیہ کی اکثریت کے بگڑ جانے اور اس کے باہم اختلافات کا شکار ہونے کی پیشگوئیاں احادیث نبویہ میں بھری پڑی ہیں اسلامی شریعت تو قیامت تک محفوظ رہے گی۔لیکن اس شریعت کے ماننے والوں کے گمراہی سے محفوظ ہونے اور فرقہ بندی سے بچے رہنے کی خبر کہیں موجود نہیں لیکن افسوس ! کہ لدھیانوی صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کے بعد کسی زمانہ میں عام گمراہی کا اقرار " صریح کفر " ہے ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات درج کیے جاتے ہیں۔