راہ عمل — Page 54
۵۵ لا تحزنوا تم کوئی خوف نہ کرو اور کوئی غم نہ کھاؤ ہم تمہیں جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔اس کے ایک معانی یہ ہیں کہ استقامت دکھانے والوں میں خدا کے کچھ بندے ایسے بھی ہوں گے جن کو خدا کے رستے کے غم، غم نظر نہیں آئیں گے جن کو جب خدا کے نام پر ڈرایا جائے گا اور خدا کے نام لینے کے نتیجہ میں ڈرایا جائے گا تو وہ خوف سے آزاد لوگ ہوں گے چنانچہ اس گروہ کے متعلق ایک جگہ خدا فرماتا ہے الا ان اولیاء اللہ لا خوف عليهم ولا هم يحزنون۔چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے داعی الی اللہ پیدا ہوتے ہیں جو مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے قدم بڑھاتے ہیں۔۔۔پس وہ گواہ ہوتے ہیں ان مصائب کے بھی جو ان کو پہنچتے ہیں اور وہ گواہ ہوتے ہیں ان جنتوں کے بھی جو مصائب کے دور میں ہمیشہ ان کو عطا کی جاتی ہیں اس حالت میں وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں تو اللہ فرماتا ہے من احسن قولا ممن دعا الی اللہ دیکھو دیکھو میرے ان بندوں سے زیادہ حسن ادعا کس کا ہو سکتا ہے۔مصائب کے سارے ادوار سے گزرنے کے بعد پھر میری طرف بلاتے ہیں پہلے یہ کہا تھا کہ رب ہمارا ہے اب کہتے ہیں کہ اسے دنیا والو تم بھی اسی رب کے ہو جاؤ۔یہ ہیں وہ داعی الی اللہ جو ہمیں بننا ہو گا کیونکہ دنیا ہزار قسم کی ظلمات کا شکار ہے ہزار خونوں میں مبتلا ہے ہزار قسم کے حزین ہیں جو دل کو چھلنی کئے ہوئے ہیں۔پس اے احمدی آگے بڑھے اور ان خونوں کو دور کر ان اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کر دے اور ان غموں کو راحت و اطمینان میں بدل دے کیونکہ تیرے مقدر میں یہی لکھا گیا ہے۔داعی الی اللہ کی سات خوبیاں خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء ) سورة لحم سجدہ کی آیات و من احسن قولا ممن دعی الی اللہ۔۔۔کی تلاوت فرمانے کے بعد لا تستوى الحسنة ولا السمئة کی تشریح میں فرمایا۔دراصل اس میں دو الگ الگ اعلان ہو رہے ہیں اس لئے یہاں عربی لغت کے مطابق استویٰ کے معنی یہ بنیں گے کہ نہ تو نیکی کو قرار ہے نہ بدی کو قرار ہے۔۔۔یہ بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ان دونوں کے