ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 75
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام پیش کی آپ اپنے اصحاب کے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھے ابھی آپ نے ایک لقمہ ہی لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسے کھانے سے منع کر دیا۔جس صحابی بشر نے ایک لقمہ کھایا تھا وہ وفات پا گئے۔آنحضور نے اس عورت کو بلا کر پوچھا کہ ایسا کیوں کیا، تو اس نے کہا کہ ہم آپ کو قتل کر نا چاہتے تھے آپ نے فرمایا "اللہ تمہیں ایسا نہیں کرنے دے گا۔“ اس نے کہا ” کیا آپ کو قتل نہیں کیا جاسکتا؟“ آپ نے فرمایا نہیں۔اس نبی رحمت نے اسے بھی معاف کردیا۔کوئی انتقام نہ لیا۔مسلم باب السلام کتاب السم) ( ابوداؤد ) جنگ حنین کے بعد ایک شخص شیبہ نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔وہ کہتے ہیں: میں بھی اس لڑائی میں شامل ہوا مگر میری نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول اللہ کو قتل کردوں گا اور میں نے دل میں یہ کہا کہ عرب اور غیر عرب تو الگ رہے اگر ساری دنیا بھی محمد کے مذہب میں داخل ہو گئی تو میں تو نہیں ہونے کا جب لڑائی تیزی پر ہوئی اور ادھر کے آدمی ادھر کے آدمیوں سے مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ کے قریب ہونا شروع ہوا۔اس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے بھسم کر دے۔اس وقت مجھے رسول اللہ کی آواز آئی ”شیبہ ! میرے قریب ہو جاؤ۔“ میں جب آپ کے قریب گیا تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔اے خدا! شیبہ کو شیطانی خیالوں سے نجات دے۔شیبہ کہتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ہی میرے دل سے ساری دشمنیاں اور عداوتیں اڑ گئیں اور اس وقت سے رسول اللہ مجھے اپنی آنکھوں سے اور اپنے کانوں سے اور اپنے دل سے زیادہ عزیز ہو گئے۔“ (دیباچہ تفسیر القر آن صفحه 223) 75