ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 48 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 48

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے سست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں۔قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج تھے۔آمَنَّا وَصَدَّقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔۔۔مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب کے نمونہ پر چلیں مولوی صاحب پہلے راستبازوں کا ایک نمونہ ہیں۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 520 - 522) ایک دفعہ حضرت اماں جان اور بعض دوسری خواتین میں یہ بات ہوئی کہ بھلا حضرت اقدس کو سب متبعین میں سے زیادہ کون محبوب ہے۔اس پر حضرت اماں جان نے فرمایا کہ میں حضور سے کچھ بات کروں گی جس سے اس بات کا پتہ چل جائے گا۔حضرت اماں جان، حضرت اقدس کے پاس کمرہ میں تشریف لے گئیں اور حضور کو مخاطب کر کے فرمانے لگیں کہ : ”آپ کے جو سب سے زیادہ پیارے مرید ہیں وہ۔۔اتنا فقرہ کہہ کر حضرت اماں جان چپ ہو گئیں اس پر حضرت اقدس نے نہایت گھبرا کر پوچھا ”مولوی نورالدین صاحب کو کیا ہوا جلدی بتاؤ۔“ اس پر حضرت اماں جان ہنسنے لگیں اور فرمایا: آپ گھبرائیں نہیں مولوی نور الدین صاحب اچھی طرح ہیں میں تو آپ کے منہ سے یہ بات کہلوانا چاہتی تھی کہ آپ کے سب سے پیارے مرید کون سے ہیں چنانچہ آپ نے وہ بات کہہ دی اب میں جاتی ہوں آپ اپنا کام کریں۔“ خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر شار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟ اُسے دے چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے (لطائف صادق صفحہ 12 - 13 (در ثمین) روزنامه الفضل آن لائن لندن 14 جنوری 2022ء) 48