ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 394
کرتے۔پھر آپ صلی الم نے بد کاری کی شناعت خوب کھولنے کیلئے فرمایا کہ تم پھوپھی اور خالہ سے زنا پسند کرو گے؟ اس نے کہا خدا کی قسم ہر گز نہیں۔آپ کی ایم نے فرمایا لوگ بھی اپنی پھوپھیوں اور خالاؤں کے لئے بد کاری پسند نہیں کرتے۔مقصود یہ تھا کہ جو بات تمہیں اپنے عزیز ترین رشتوں میں گوارا نہیں۔وہ دوسرے لوگ کیسے گوارا کریں گے اور کوئی اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر نبی کر یم ملی لی ہم نے اس نوجوان پر دست شفقت رکھ کر دعا کی اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَہ اے اللہ ! اس نوجوان کی غلطی معاف کر۔اس کے دل کو پاک کر دے۔اسے باعصمت بنادے۔اس نوجوان پر آپ صلی یم کی اس عمدہ نصیحت کے ساتھ دعا کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ اس نے بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور پھر کبھی اس طرف اُس کا دھیان نہیں گیا۔آں ترحمها که خلق از وے بدید کس ندیده در جہاں از مادری (مسند احمد جلد 1 صفحہ 335 بیروت) ہمدردی خلق اور رحم و کرم کے جو نظارے مخلوق خدا نے آپ کے بابر کت وجود میں دیکھے، ایسے نظارے تو کسی شخص نے اپنی ماں سے بھی نہ دیکھے ہوں گے۔سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِ لا سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ مُحَمَّدٍ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں تو آنحضرت صلی الم کی تعلیم کے احیائے ٹو کے لئے آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا: (ملفوظات جلد اول صفحہ 490 ایڈیشن 2003ء) لو گوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور اُن پر رحم کر۔تو اُن میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور اُن کی باتوں پر صبر کر۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 605) یا داؤد عامل بالناس رفقا و احسانا و اذا حییتم بتحية فحيوا باحسن منھا۔واما بنعبت ربك فحدث اے داؤد! خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر اور سلام کا جواب احسن طور پر دے اور 394