ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 383
طور پر دعا کرتے۔( بخاری کتاب الادب باب الزيارة و من زار قوماً فطعم عندهم ) آپ صلیم نے اپنے عمل سے دکھایا کہ جس کو دعوت دی گئی ہے وہ اپنے ساتھ زائد لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔ایک دفعہ ابوشعیب انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول الله صلى الم کی دعوت کی اور عرض کیا کہ چار افراد اپنی مرضی سے ساتھ لے آئیں۔دعوت پر جاتے ہوئے ایک اور شخص بھی ساتھ تھا۔رسول کریم صلی العلیم نے میزبان کو بے تکلفی سے فرمایا کہ آپ نے تو پانچ افراد کی دعوت کی تھی۔ایک زائد آدمی ہمارے ساتھ آگیا ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو یہ آجائیں ورنہ یہ واپس چلے جاتے ہیں۔میزبان نے بہت خوشی سے اجازت دے دی۔سة (بخاری کتاب الاطعمه باب الرجل يتكلف الطعام لاخوانه ) ایک فارسی نو مسلم حضور صلی علیم کا ہمسایہ بنا جو سالن بہت عمدہ تیار کیا کرتا تھا۔اس نے حضور صلی یام کے لئے سالن تیار کیا اور حضور صلی الی یوم کو دعوت دینے آیا تو آپ صلی علیم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں پوچھا کہ ان کو بھی ساتھ بُلایا ہے نا؟ وہ بولا نہیں حضور صلی یم نے فرمایا پھر ہم بھی نہیں آتے۔دوسری دفعہ وہ پھر دعوت دینے آیا تو آپ صلی علیہم نے پھر وہی سوال کیا۔تیسری مرتبہ اس نے حامی بھری۔تب حضور صلی می کنیم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے گھر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔الله سة (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 123 بیروت) آپ صلی الم کی میزبانی کا ایک واقعہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں: ”ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبی کو اختیار کیا۔کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔حضرت نے اس کی بہت تواضع و خاطر داری کی۔وہ بہت بھو کا تھا۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا۔اس بیچارے کا پیٹ خراب ہو گیا) اور رضائی میں ہی کر دیا۔جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے۔شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھا وہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔آنحضرت علی سلم نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں۔ہم جو حاضر ہیں، ہم صاف کر دیں گے۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ وہ میرا 383