ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 331
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ثابت قدم رہے وہ بھی حیرت انگیز ہے قلوب میں انشراح پیدا ہو جائے تو جان ارزاں ہو جاتی ہے۔آپ کی راستبازی کی تابانی مؤمنین کو ہی مسحور نہیں کرتی تھی بلکہ آپ کے عقائد کو غلط سمجھنے والے بھی اختلاف کے باوجود آپ کی حق گوئی کے اعتراف پر مجبور تھے۔ہجرت حبشہ کے وقت جب کچھ مسلمانوں نے آنحضور صلی اللی علوم کا تاریخی خط حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو دیا اور اسلام لانے کی دعوت دی تو اس نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ جس نبی کا پیغام آپ لائے ہیں کیا اس نے نبوت سے پہلے کی زندگی میں کبھی جھوٹ بولا ہے؟ بے ساختہ جواب ملا نہیں نہیں۔اُس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔الله سة ایک دفعہ قریش کا وفد نبی کریم صلی علیم کی شکایت لے کر ابوطالب کے پاس آیا۔ابو طالب نے آپ کو سمجھایا که قریش کی بات مان لو۔نبی کریم صلی اللہ کریم نے قریش سے فرمایا کہ اگر تم اس سورج سے روشن شعلہ آگ بھی میرے پاس لے آؤ پھر بھی میرے لیے اس کام کو چھوڑنا ممکن نہیں۔آنحضرت صلی ال ولم تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہو رہی تھی اور جب آنحضرت علی الم یہ تقریر ختم کرچکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔تو اور ہی رنگ میں اور ہی شان میں ہے۔جا اپنے کام میں لگا رہ۔جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 110 - 111) شعب ابی طالب کے زمانہ میں جب محصوری کی حالت میں تیسرا سال ہونے کو آیا تو نبی کریم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو سوائے لفظ اللہ کے دیمک کھا گئی ہے۔ابو طالب کو رسول اللہ کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمد لی ایم نے مجھ سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔یہ بات بھی لازما سچ ہے۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ سرداران قریش کے پاس گئے اور انہیں بھی کھل کر کہا کہ میرے بھیجے نے مجھے یہ بتایا ہے کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک کھا گئی ہے۔اس نے مجھ سے آج تک جھوٹ نہیں بولا، بے شک تم جا کر دیکھ لو، اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلے تو تمہیں بائیکاٹ کا اپنا فیصلہ تبدیل کرنا ہو گا۔اگر وہ جھوٹا ثابت ہو تو میں اُسے تمہارے حوالے کرونگا۔چاہو تو اسے قتل کرو اور چاہو تو زندہ رکھو۔انہوں نے کہا بالکل یہ انصاف کی بات ہے۔پھر جا کر دیکھا تو جیسے رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا تھا، سوائے لفظ اللہ کے 331