ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 322
دینا چاہئے تو آپ فرماتے ہم اگر کوئی بدی کریں گے تو خدا دیکھتا ہے اور ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔(سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم روایت نمبر 1130 صفحہ 102 جدید ایڈیشن) حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: پنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے، آخر وہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا عبد الکریم سیا لکوٹی صفحہ 51 - 52) 29 جنوری 1904ء کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے حضور ایک گالیاں دینے والے اخبار کا تذکرہ آیا کہ فلاں اخبار جو ہے بڑی گالیاں دیتا ہے۔آپ نے فرمایا صبر کرنا چاہیئے۔ان گالیوں سے کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے لوگ آپ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ کو نعوذ باللہ مذ تم کہا کرتے تھے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کی مذمت کو کیا کروں۔میرا نام تو اللہ تعالیٰ نے محمد رکھا ہوا ہے فرمایا کہ اسی طرح اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری نسبت فرمایا ہے، يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرشہ یعنی اللہ اپنے عرش سے تیری حمد کرتا ہے، تعریف کرتا ہے اور یہ وحی براہین احمدیہ میں موجود ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 450) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا اور اپنے تئیں جہاں گرد اور سرد و گرم زمانه دیده و چشیدہ ظاہر کرتا تھا ہماری مسجد میں آیا اور حضرت سے آپ کے دعوے کی نسبت بڑی گستاخی سے باب کلام وا کیا۔تھوڑی گفتگو کے بعد کئی دفعہ کہا۔آپ اپنے دعوئی میں کاذب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ پر کہتا تھا کہ آپ اپنے دعوئی میں جھوٹے ہیں اور میں نے ایسے مکار بہت دیکھے ہیں (نعوذ باللہ) اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں۔غرض ایسے ہی بیباکانہ الفاظ کہے۔مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔بڑے سکون سے سنا کئے، اور پھر بڑی نرمی سے اپنی نوبت پر کلام شروع کیا۔(سیرت حضرت مسیح موعود صفحہ 44) 322