ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 296
بد کلامی پر صبر و ضبط ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے۔کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ اگر حضرت صاحب کی اجازت ہوتی۔تو اُس کی وہیں تکا بوٹی اُڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس کی فحش زبانی حد کو پہنچ گئی۔تو حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ دو آدمی اسے نرمی کے ساتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 257 روایت 286) آخری کتاب۔پیغام صلح آپ کو اپنی وفات قریب ہونے کے الہامات ہو رہے تھے۔زندگی کے آخری دو تین روز ایک کتاب لکھنے میں گزارے جس کا مقصد خالصتاً نسل انسانی کی بہبود، امن عالم کا قیام اور بین المذاہب صلح و آشتی تھا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ روزنامه الفضل آن لائن لندن 16 ستمبر 2022 ء 296