ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 295
بعض اور مثالیں دے کر اُسے سمجھایا۔۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 759 روایت (850) تحفہ قبول کرنا ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوؤں کے ہاں کا کھانا کھا پی لیتے تھے اور اہل ہنود کا تحفہ از قسم شیرینی وغیرہ بھی قبول فرما لیتے تھے اور کھاتے بھی تھے۔اسی طرح بازار سے ہندو حلوائی کی دُکان سے بھی اشیاء خوردنی منگواتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ہندوؤں کے ہاتھ کی پکی ہوئی چیز جائز سمجھتے تھے اور اس کے کھانے میں پر ہیز نہیں تھا۔آجکل جو عموماً پرہیز کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ مذہبی نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 794 روایت 921) دعوت قبول کرنا ایک شخص جو ہندو تھا اور بڑا ساہو کار تھا وہ جالندھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں حضور کی مع تمام رفقاء کے دعوت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فوراً دعوت قبول فرمالی۔اُس نے کھانے کا انتظام بستی بابا خیل میں کیا اور بہت پر تکلف کھانے پکوائے۔جالندھر سے پیدل چل کر حضور مع رفقاء گئے۔اُس ساہو کار نے اپنے ہاتھ سے سب کے آگے دستر خوان بچھایا اور لوٹا اور سلائچی لے کر خود ہاتھ ڈھلانے لگا۔ہم میں سے کسی نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں تو اُس نے کہا کہ میں نے اپنی نجات کا ذریعہ محض یہ سمجھا ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت خد ا قبول کر لے۔غرض بڑے اخلاص اور محبت سے وہ کھانا کھلاتا رہا۔کھانا کھانے کے بعد اُس نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ کیا خدا میرے اس عمل کو قبول کرے گا، مجھے نجات دے گا؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذرہ نواز ہے۔تم خدا کو وحدہ لاشر یک یقین کرو اور بتوں کی طرف بالکل توجہ نہ کرو اور اپنی ہدایت کے لئے خدا سے اپنی زبان میں ہی دعا مانگتے رہا کرو۔اُس نے کہا کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔حضور بھی میرے لئے دعا مانگتے رہیں۔پھر ہم واپس جالندھر آگئے اور وہ ساہو کار دوسرے تیسرے دن آتا اور بڑے ادب کے ساتھ حضور کے سامنے بیٹھ جاتا۔(سیرت المہدی حصہ چہارم صفحہ 50 روایت 1056 295