ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 269
میں حق حق ہو جائے اور مجھے مخلصی ملے میں نہیں کہتا کہ میرے حق میں ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حق کیا ہے پس جو اس کے علم میں حق ہے اس کی تائید اور فتح ہو“ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 71 - 72) عین پیشی کے وقت بھی آپ نماز کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کو اولیت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ میں کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔عدالت میں اور مقدمہ ہوتے رہے۔میں باہر ایک درخت کے نیچے انتظار کرتا رہا۔چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اس لئے میں نے وہیں نماز پڑھنا شروع کر دی۔مگر نماز کے دوران میں ہی عدالت سے مجھے آوازیں پڑھنی شروع ہو گئیں مگر میں نماز پڑھتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہو اتو میں نے دیکھا کہ میرے پاس عدالت کا بہرہ کھڑا ہے۔سلام پھیر تے ہی اس نے مجھے کہا مرزا صاحب مبارک ہو آپ مقدمہ جیت گئے ہیں۔“ (سیرت المہدی جلد اول حصہ اوّل صفحہ 14 روایت نمبر 17 ایک ہندو مدرس پنڈت دیوی رام کا تفصیلی چشم دید بیان سیرت المہدی میں درج ہے: ”اگر کسی کی تاریخ مقدمہ پر جانا ہوتا تھا تو آپ کے والد صاحب آپ کو مختار نامہ دے دیا کرتے تھے اور مرزا صاحب به تعمیل تابعداری فوراً بخوشی چلے جاتے تھے۔مرزا صاحب اپنے والد صاحب کے کامل فرمانبر دار تھے مقدمہ پر لاچاری امر میں جاتے تھے۔“ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 759) آپ کی عمر مبارک پچیس تیس برس تھی جب والد صاحب درخت کاٹنے پر تنازعہ ہو گیا۔آپ کو مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور جانا پڑا۔مجسٹریٹ کے سامنے آپ نے جو حق بات تھی کہہ دی۔فیصلہ خلاف ہو گیا والد صاحب ناخوش ہوئے مگر آپ نے حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔1864ء میں سیالکوٹ میں ملازمت کا انتظام کیا۔چار سال کی اس ملازمت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا۔اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا۔میں نے استعفاء دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔۔۔بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے 269