ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 266
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم و غم والدین اٹھاتے ہیں۔جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے، کیو نکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اٹھاتی ہے۔کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو، ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه 289 - 290) آپ نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی کہ: ”خدا تعالیٰ نے انسان پر دو ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ایک حقوق اللہ اور ایک حقوق العباد۔پھر اس کے دو حصے کئے یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسری مخلوق الہی کی بہبودی کا خیال اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سسر کی خدمت اور اطاعت۔پس کیا بد قسمت ہے جو ان لو گوں کی خدمت نہ کر کے حقوق عباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 180 ایڈیشن 1988ء) حضرت اقدس مسیح موعود کا والدین کا احترام آنحضور صل الم تو اپنے حقیقی والدین کی خدمت نہ کر سکے تاہم آپ کی تعلیمات پر آپ کے ظل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے عمل کر کے دکھایا۔شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھے اللہ تبارک تعالیٰ نے نبی کا راستہ اس کے والدین کے راستے سے جدا بنایا ہوتا ہے اس کے باوجود والدین کی اطاعت اور احترام کی عظیم الشان مثالیں قائم فرمائیں۔آپ کے والد صاحب کا نام حضرت مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان اور والدہ محترمہ کا نام حضرت چراغ بی بی تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام 13 فروری 1835ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب بڑے جاگیر دار تھے۔لیکن ملکی حالات کے زیر اثر ان کی جائیداد ضبط ہو گئی اور باوجود ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے وہ اپنی جا گیر 266