ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 239
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام میں آئے گا وہ فیصلہ کر دے۔اس بات پر سارے راضی ہو جاؤ۔چنانچہ سب نے یہ تجویز مان لی اور اگلے روز منتظر لوگوں نے دیکھا کہ بیت اللہ میں سب سے پہلے محمد صلی علی کرم داخل ہوئے۔اطمینان کی لہر دوڑ گئی بیک زبان سب نے کہا هذ الامین یہ تو امین ہے۔ہم خوش ہو گئے یہ محمد ہیں۔آپ کی امانت اور دیانت اور صداقت کے گواہوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایک اور خوبی کھول کر دکھادی کہ آپ دانا بھی ہیں صحیح فیصلے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔قریش نے حجر اسود کا جھگڑا بتایا۔آپ نے ایک چادر منگوائی اس پر حجر اسود رکھ دیا۔پھر ہر قبیلہ کو اس کا ایک ایک کونہ پکڑ کر اٹھانے کو کہا جب وہ حجر اسود جہاں رکھنا تھا اپنی اس جگہ پر پہنچ گیا تو آپ نے اسے اٹھا کر اپنے ہاتھ سے اس کی جگہ پر نصب فرما دیا۔استفاده از السيرة النبوية لابن هشام حديث بنيان الكعبة۔۔۔اشارة ابي امية بتحکیم اول داخل فكان رسول الله ) عین شباب کی عمر ہے والدین کا سایہ نہیں ہے صحت مند اور حسین ہیں۔مگر حسن اخلاق کی وہ چمک ہے کہ جو دیکھتا ہے متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا۔مکہ کی متمول خاتون حضرت خدیجہ نے آنحضور صلی علیم کی صدق بیانی اور امانت داری اور اعلیٰ اخلاق کا حال سن کر اپنا مال آپ کو دے کر تجارت کے لئے آپ کو روانہ کیا۔اس سفر میں حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔واپسی پہ میسرہ نے سفر کے حالات بیان کئے تو حضرت خدیجہ نے ان سے متاثر ہو کر آنحضور صلی ایم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔کہ آپ قرابت داری کا خیال رکھتے ہیں، قوم میں معزز ہیں، امانتدار ہیں اور احسن اخلاق کے مالک ہیں اور بات کہنے میں سچے ہیں۔( السيرة النبوية لابن هشام حديث تزويج رسول الله على خديجة رضی الله عنها) مرد کے اخلاق کی سب سے بڑی گواہ اس کی بیوی ہوتی ہے نزول وحی کی ابتدا تھی حضرت خدیجہ کو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے پندرہ سال ہو گئے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی این یکم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وحی کے وقت اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔تو انہوں نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا: "لا أَبْشِهُ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ “ یعنی ویسے نہیں جیسے آپ سوچ رہے ہیں، آپ کو مبارک ہو۔اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور راست گوئی اور سچائی سے کام لیتے ہیں۔(بخاری کتاب التعبیر باب اول ما بدئ به رسول الله من الوحى الرؤيا الصالحة ) بیوی کے بعد بے تکلف دوست ہوتے ہیں جن سے انسان کی کوئی بات نہیں چھپتی۔حضرت ابو بکر جن کے 239