ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 238
۔جس میں سب دلچسپی سے شریک ہوتے مگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان میں شمولیت سے روکے رکھا نہ بتوں کی پوجا کی نہ شراب پی نہ بے کار لہو و لعب میں شریک ہوئے خود فرماتے ہیں: ”مجھے جوانی میں کبھی عیش پرستی اور بد کاری کی ہمت نہیں پڑی بلکہ میرے رب نے مجھے ان تمام برائیوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مکہ کے نوجوانوں میں عام تھیں۔“ (بیہقی) بارہ سال کے تھے جب آپ کے چا ابو طالب شام کے سفر میں آپ کو ساتھ لے گئے راستے میں جر جیں بحیرہ ایک پادری نے آپ صلی ایم کو دیکھا کے جدھر بھی جاتے ہیں سر پر بادل سایہ کرتے ہیں۔اس نے ابو طالب کو بتایا کہ یہ بچہ مکہ والوں کا سردار ہو گا اللہ تعالیٰ انہیں رحمت عالم بنا کر بھیجے گا۔تم لوگ اس طرف آ رہے تھے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو انہیں سجدہ کرنے کے لئے نہ جھکا ہو۔یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتیں اور میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچان گیاہوں اور ان کی صفات ہماری آسمانی کتب ( تورات اور انجیل) میں بھی موجود ہیں۔(خلاصه ترندی عن ابی موسی) آپ صلی علی ایم کی عمر مبارک ہیں سال ہوئی تو ذوالقعدہ کے مہینہ میں عکاظ (مقام) میں ایک جنگ ہوئی اس کو جنگ فجار کہتے ہیں کیونکہ یہ حرمت والے مہینے میں ہوئی تھی اس جنگ کے فوراً بعد ذو القعدہ کے مہینہ میں ہی قریش کے پانچ قبائل کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جسے حلف الفضول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ صلی علیم بھی اس معاہدے میں شامل ہوئے جس میں طے پایا کہ ہر مظلوم کی مدد کی جائے گی اور ظالم کو سزا دی جائے گی۔رسول اکرم صلی علی ایم نے فرمایا: ”میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان میں ایک ایسے معاہدہ (حلف الفضول) میں شریک ہوا کہ مجھے اس کے بدلہ میں سرخ اونٹ (قیمتی سے قیمتی چیز ) بھی پسند نہیں اور اگر دور اسلام میں بھی مجھے ایسے معاہدہ کے لئے بلایا جائے تو میں یقینا اسے قبول کروں گا۔“ (بیہقى عن جبير بن مطعم) اہل مکہ کو آپ کی صداقت و امانت پر کو گواہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا خوب انتظام فرمایا۔ابتدائے جوانی کی بات ہے تعمیر کعبہ کے وقت حجر اسود کی تنصیب کے لئے قبائل کا باہم اختلاف ہوا اور نوبت جنگ و جدال تک پہنچنے لگی چار پانچ دن تک کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔پھر ان میں سے ایک عقلمند شخص نے مشورہ دیا کہ اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ فیصلہ کر لو کہ جو شخص کل سب سے پہلے بیت اللہ 238