ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 232
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام تھی۔رات کی سُنسان اور تاریک گہرائیوں میں رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔ایسے وقت میں جبکہ مخلوق اپنے آرام میں سوئی ہے یہ جاگتے تھے اور روتے تھے۔القصہ آپ کی یہ ہمدردی اور شفقت علی خلق اللہ اپنے رنگ میں بے نظیر تھی۔(سيرة مسیح موعود صفحه 428) حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں میں ہمیشہ ی کوشش کرتا تھا کہ ہر مجلس میں اور ہر موقع پر حضرت صاحب کے قریب ہو کر بیٹھوں۔بعض دفعہ کوئی دوست حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کی تحریک کرتے اور حضور اس مجلس میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو میں بہت قریب ہو کر یہ سننے کی کوشش کرتا کہ حضور کیا الفاظ منہ سے نکال رہے ہیں۔بار بار کے تجربہ سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود ہر دعا میں سب سے پہلے سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے اور بعد میں کوئی اور دعا کرتے تھے۔“ (سيرة مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 521) حضرت اقدس کی درد دل سے مانگی کچھ دعائیں پڑھئے۔ے ہمارے رب! ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری آزمائشیں اور تکالیف دور کر دے اور ہمارے دلوں کو ہر قسم کے غم سے نجات دے دے اور ہمارے کاموں کی کفالت فرما اور اے ہمارے محبوب! ہم جہاں بھی ہوں ہمارے ساتھ ہو اور ہمارے ننگوں کو ڈھانپے رکھ اور ہمارے خطرات کو امن میں تبدیل کر دے۔ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا ہے اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے۔دنیا و آخرت میں تو ہی ہمارا آقا ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ (ترجمه از عربی عبارت تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 182) آپ اپنے دور کے علماء کے بارے میں دعا کر تے ہیں کہ: ے میرے رب! اے میرے رب! میری قوم کے بارہ میں میری دعا اور میرے بھائیوں کے بارہ میں میرے تضرعات کو سن۔میں تیرے نبی خاتم النبیین و شفیع المذنبین کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں۔اے میرے رب! انہیں ظلمات سے اپنے نور کی طرف نکال اور دوریوں کے صحراء سے اپنے حضور میں لے آ۔اے میرے رب! ان لوگوں پر رحم کر جو مجھ پر لعنت ڈالتے ہیں اور اپنی ہلاکت سے اس قوم کو 232