ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 231
”خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 127) الفاظ کا چناؤ پچھلے ہوئے دل کا غماز ہے اور رحمت کو جوش میں لاتا ہے آپ اس کی اہمیت سے خوب واقف تھے فرماتے ہیں: دعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہچانے اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو، دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 538) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب آپ کی دعا کا طریق بیان فرماتے ہیں کہ: جب حضرت صاحب مجلس میں بیعت کے بعد یا کسی کی درخواست پر دعا فرمایا کرتے تھے تو آپ کے دونوں ہاتھ منہ کے نہایت قریب ہوتے تھے اور پیشانی اور چہرہ مبارک ہاتھوں سے ڈھک جاتا تھا اور آپ آلتی پالتی مار کر دعا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ دوزانو ہو کر دعا فرماتے تھے۔اگر دوسری طرح بھی بیٹھے ہوں تب بھی دعا کے وقت دوزانو ہو جایا کرتے تھے۔یہ دعا کے وقت حضور کا ادب الہی تھا۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 161 روایت نمبر 736) حضرت مولانا مولوی عبدالکریم نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ بیت الدعا کے اوپر میرا حجرہ تھا اور میں اُسے بطرز بيت الدعا استعمال کیا کرتا تھا۔اس میں سے حضرت مسیح موعود کی حالت دُعا میں گریہ و زاری کو سنتا تھا۔آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھ اور آپ اس طرح پر آستانہ الہی پر گریہ و زاری کرتے تھے جیسے کوئی عورت دردزہ سے بیقرار ہو۔وہ فرماتے تھے کہ میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوقِ الہی کے لئے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دُعا کرتے تھے کہ الہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو جائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔یہ خلاصہ اور مفہوم حضرت مولانا سیا لکوٹی صاحب کی روایت کا ہے۔اس سے پایا جاتا ہے کہ باوجود یکہ طاعون کا عذاب حضرت مسیح موعود کی تکذیب اور انکار ہی کے باعث آیا مگر آپ مخلوق کی ہدایت اور ہمدردی کے لئے اس قدر حریص تھے کہ اس عذاب کے اُٹھائے جانے کے لئے باوجود یکہ دشمنوں اور مخالفوں کی ایک جماعت موجود 231