ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 226 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 226

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام یاحی یا قیوم ! یاحی یا قیوم ! یعنی اے میرے زندہ خدا! اے میرے زندگی بخش آقا! حضرت ابو بکر آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے اور کبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں۔آپ گھبرائیں نہیں۔اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔مگر اس سچے مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر آپ برابر دعا اور گریہ و زاری میں مصروف رہے۔(سیرت خاتم النبیین صفحه 361) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس شدید گریہ وزاری کی وجہ جانتے تھے فرمایا کہ: ”بدر کی فتح کی پیش گوئی ہو چکی تھی، ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم رورو کر دعا مانگتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے۔یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 8 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔خاص طور پر مضطر اور مظلوم کی دعا عرش کے پائے ہلا دیتی ہے۔دعا میں دل کا درد بے ساختہ الفاظ میں ڈھلتا ہے تکلف اور لفاظی نہیں ہوتی۔مانگنے کا بھی ایک سلیقہ ہوتا ہے۔دعا کی اصل روح، اپنے خالق حقیقی کو قادر مطلق یقین کرتے ہوئے، اس پر کامل تو کل کرتے ہوئے اسی کی طرف جھکنا اور فریاد کرنا ہے۔عاجزانہ اعتراف کم مائیگی کس طرح دل گداز الفاظ میں ڈھلتا ہے۔بارگاہ ایزدی میں رسول اللہ عرض کرتے ہیں: اے خدا! تُو ہی میرا رب ہے۔تیرے سوا کوئی قابل عبادت نہیں۔تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔اپنے کاموں کے خراب پہلو سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔تیرے احسانوں کا معترف اور اپنی کوتاہیوں کا اقراری ہوں۔تیرے سوا کوئی پردہ پوش نہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی یام کو یہ بھی خوشخبری دی تھی کہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف ہیں۔لیکن کیا اس کے بعد آپ کی ال کلیم نے نمازیں پڑھنی یا استغفار کرنا یا دعائیں مانگنا بند کر دیا؟ ہر گز نہیں۔تاریخ 226