ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 171
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام کہ یا رسول اللہ ! وہی ذلیل ہے اور آپ ہی عزیز ہیں۔خود بیٹے نے اپنے باپ کے بارے میں کہا۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء ثالث صفحہ 941 عبد اللہ بن عبد اللہ انصاری“ دار الجیل بیروت) ایک دفعہ حضرت عبداللہ نے اپنے والد عبد اللہ بن ابی کا راستہ روک لیا اور اپنے والد سے کہنے لگے کہ جب تک تم یہ اقرار نہیں کرتے کہ تو ذلیل ترین اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) عزیز ترین ہیں تب تک میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔میری عمر کی قسم! ہم اس سے ضرور اچھا برتاؤ کریں گے جب تک یہ ہمارے درمیان زندہ ہے۔(الطبقات الكبرى جزء 2 صفحہ 50 غزوة رسول اللہ المریسیع، دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) غزوة بنو مصطلق سے واپسی پر افک کا واقعہ پیش آیا جس میں حضرت عائشہ کی ذات پر گندے اور انتہائی تکلیف دہ الزامات لگائے گئے تھے اس کا بانی مبانی بھی یہی ظالم شخص تھا۔لیکن آپ کی فراخ دلی دیکھئے کہ جب وہ فوت ہوا تو اس کے لئے اپنی قمیض عطا کی اور فرمایا کہ جب تم لوگ تجہیز و تکفین کے معاملات سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بلا لینا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمر نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ سے منع کیا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں ان کے لیے استغفار کروں یا نہ کروں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جب اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کی کلیۂ ممانعت فرما دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانی بند کر دی۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء ثالث صفحہ 941 عبد اللہ بن عبد اللہ انصاری“ دار الجیل بیروت) یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ پہنچے تو اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا۔آپ نے باہر نکلوایا۔اپنی ٹانگوں پر اس کا سر رکھا اور پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور پھر دعا کی اور قمیض کرتہ اتار کے دیا۔(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر حديث نمبر 1350) عاشق جان نثار میں بدلا، پیاسا تھا جو خار لہو کا م الله اسلام کے ایک اور دشمن کا نام ثمامہ بن اثال تھا جو قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک بااثر رئیس تھا۔کئی بے گناہ مسلمانوں کے قتل کا مجرم تھا۔آخر مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوا تو آنحضور صلی ا ہم نے اسے مسجد نبوی کے صحن میں ایک ستون سے باندھنے کا ارشاد فرمایا۔غرض یہ تھی کہ نمازوں کے روحانی نظاروں سے متاثر ہو 171