ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 142 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 142

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کو برا کہنے والا ہمارے سامنے اپنے کسی ان دیکھے خدا کو یاد کرتا ہے ایک دن ایک شخص نے حضور کی چادر مبارک کھینچ کر مروڑنی شروع کردی حتی کہ آپ کا دم گھٹنے لگا۔حضرت ابو بکر بھی وہاں موجود تھے۔وہ یہ حالت دیکھ کر روتے ہوئے قریش سے کہنے لگے کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔تب قریش نے آپ کو چھوڑ دیا۔(خلاصه از مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 218 مطبوعہ بیروت) ایک دن ایک شخص نے اونٹنی کی بچہ دانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر جبکہ وہ سجدے میں تھے رکھ دی اور مذاق اڑانے لگے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل سجدے میں رہے۔آپ اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کے پاس حضرت فاطمہ آئیں اور انہوں نے اس بچہ دانی کو آپ کی کمر سے بمشکل روتے روتے اتارا۔اس پر آپ کے والد نے اپنا سر اٹھایا۔(خلاصه از بخاری کتاب الوضوء باب اذا القى على ظهر المصلّى قذرا وجيفة حديث نمبر 240) نماز کی فرضیت پھر آپ کے معبود نے آپ کو نبوت پر سر افراز کر کے اعلائے کلمہ توحید کا کام سونپ دیا اس فرض کی ادائیگی کے لئے آپ کو خلوت چھوڑ کر جلوت میں آنا پڑا۔عبادت کی معراج نماز شب معراج کو پانچ نبوی میں فرض ہوئی آپ خانہ کعبہ یعنی مسجد حرام میں سورہے تھے معراج کے بعد حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی ال نیم کے پاس آکر پانچوں نمازوں کے اوقات بالتفصیل بتائے۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا بخاری کتاب مواقيت الصلوة ) أقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) (بنی اسرائیل: 79) سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔142