ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 95
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اس عرصہ کے لئے کھانا گھر سے لے جاتے۔جب وہ کھانا ختم ہو جاتا۔واپس آکر پھر توشہ لے جاتے۔آپ اسی طرح کیا کرتے یہاں تک کہ آپ پر حق کھل گیا اور وحی لے کر فرشتہ آپ کے پاس حاضر ہو گیا۔خلوت پسندی کا یہ جوہر خالق کائنات کی خاص عطا تھی۔اللہ پاک کی تربیت کا انداز تھا بڑی ذمہ داری کے لئے بڑی تربیت وہ خود فرماتا ہے اور اپنے تربیت یافتہ کو وہ قوت قدسی عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنا نور آگے منتقل کر سکیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے اور رُوحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلاوے۔اسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خدا شناسی کا دودھ پلاتے ہیں۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر رکھا ہے جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی کا اثر ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنا دیتا ہے۔" چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 388 - 389) رسول کریم ملی علی نام اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میں زبانی بعد بے شک چودہ سو سال کا ہے مگر روحانی طور پر ایک ساتھ ہی تھے اللہ تبارک تعالیٰ کا عشق اور عاشقانہ ادائیں مماثل ہیں۔فرماتے ہیں: ابتدا سے گوشہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہر توں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار 95