ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 94
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اہل دنیا بزدل ہوتے ہیں ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی“۔(مالفوظات جلد چہارم صفحه 317) آپ کی پہلی عبادت وہی تھی جو آپ نے غار حرا میں کی جہاں کئی کئی دن ویرانہ پہاڑی کی غار میں جہاں ہر طرح کے جنگلی جانور اور سانپ چیتے وغیرہ کا خوف ہے دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور میں عبادت کرتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے۔قاعدہ ہے کہ جب ایک طرف کی کشش بہت بڑھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دور ہو جاتا ہے۔" 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 322) حضرت عائشہ فرماتی ہیں كَانَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِ حَالٍ کہ حضور "ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے تھے۔آپ کی ر بے شمار دعائیں جو آپ نے مختلف اوقات میں بارگاہ ایزدی میں کیں۔آپ کے قلبی جذبات کی شاہد ہیں۔ایسی خود سپردگی اور گداز ہے جیسے روح پگھل کر آستانہ الوہیت پر بہہ رہی ہو اے خدا! تُو ہی ہی میرا رب ہے۔تیرے سوا کوئی قابل عبادت نہیں۔تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔اپنے کاموں کے خراب پہلو سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔تیرے احسانوں کا معترف اور اپنی کوتاہیوں کا اقراری ہوں۔تیرے سوا کوئی پردہ پوش نہیں۔آنحضرت صلی علیم اپنے خاندان اور احباب میں ایک پسندیدہ شخصیت تھے مکہ کے لوگ اس امین وصادق کو محبوب رکھتے تھے پھر گھر کا سکون بھی حاصل تھا قوم کی نظروں میں عزت و توقیر کا مقام تھا اس سکون کو حج کر اختیاری تنہائی میں وقت گزارتے۔سارے شہر کے لوگ اپنی اپنی سر گرمیوں میں مگن زندگی کے مزے لے رہے ہوتے۔صرف ایک شخص کو اس ماحول میں سکون نہیں ملتا تھا کیو نکہ وہ اس دنیا کا نہیں اپنے رب کا بندہ تھا۔زمانہ نبوت سے قبل کی زندگی میں جس کی پاکیزگی کے متعلق قرآن نے اعلان کیا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُيْرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس: 17) اس مطہر اور مقدس وجود کوسکون غارحرا کی سنج خلوت میں ملتا۔بخاری شریف میں لکھا ہے: حُبْبَ إِلَيْهِ الْخَلَاء فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُدُ اللَّيَالِي ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَالِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ (صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 3) آنحضرت کو خلوت بہت پسند تھی۔جو آپ غارِ حرا میں کئی کئی راتوں تک بغرض عبادت اختیار فرماتے اور 94