ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 9
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام پیش لفظ روز نامہ الفضل آن لائن نے قسط وار شائع ہونے والے مضامین کو قارئین کی سہولت کے لیے کتابی صورت میں آن لائن اشاعت کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے جو بفضل اللہ تعالیٰ نہایت کامیابی سے جاری ہے اور قارئین سے یہ کتب نہ صرف داد وصول کر رہی ہیں بلکہ الفضل سے محبت رکھنے والے آئے روز کسی قسط وار مضمون کی طرف اشارہ کر کے اس کو کتابی شکل دینے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔اس وقت قریباً دس کتب پر کام ہو رہا ہے۔زیر نظر کتاب بعنوان “ اس سلسلہ کی 24 ویں کڑی ہے۔جس کو لکھنے والی ہماری بہن جو ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور نثر نگار بھی ہیں اور باقاعدہ سے الفضل آن لائن کا نہ صرف روزانہ مطالعہ کرتی ہیں بلکہ اپنے مضامین اور منظوم کلام سے اخبار الفضل کو حُسن بخشتی رہتی ہیں۔موصوفہ کا نام امتہ الباری ناصر ہے جو آج کل امریکہ میں رہائش رکھتی ہیں۔موصوفہ نے چند روز قبل مجھے میسج کیا کہ لگتا ہے کہ میں ”النور “ سے زیادہ اپنے ”لفضل“ کے لیے کام کرتی ہوں۔موصوفہ کا النور امریکہ کی ایڈیٹر ہونے کے ناطے النور کے لیے ”اپنے“ کا لفظ استعمال کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن ”الفضل“ کے لیے ”اپنے“ کے الفاظ کے استعمال سے موصوفہ کی الفضل سے بے پناہ محبت جھلکتی نظر آتی ہے۔میں خود ” لفضل“ کا ایڈیٹر ہونے کے ناطے الفضل کے ساتھ ”اپنے“ یا ”اپنا“ کے الفاظ سے حجاب محسوس کرتا ہوں۔اگر کسی جگہ کسی سے بات کرتے پیارے الفضل کے ساتھ ”اپنا“ کا لفظ استعمال کر بھی لوں تو مجھے وضاحت میں کہنا پڑتا ہے کہ نہیں! جماعتی اخبار یا آپ تمام لو گوں کا پیارا اخبار۔بہر حال یہ اخبار "الفضل آن لائن“ آج کل دنیا بھر کے لاکھوں افراد و خواتین کے دل کی دھڑکن ہے اور جس کثرت کے ساتھ روزانہ ہی علی الصبح دنیا کے کونے کونے سے میسجز، پیغامات، تبصروں اور آراء کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ان تمام کو جزاهم الله خیراً کے ساتھ روزانہ ہی ان الفاظ میں دعا ملتی ہے۔تجھ کو اس لطف کی اللہ ہی جزا دے ساقی بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ایک سال قبل جب موصوفہ نے فون پر زیر نظر عنوان کے متعلق عندیہ دیا کہ ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام“ کے عنوان کے تحت ایسے واقعات، مماثلتیں اور مشابہتیں قارئین الفضل کے لیے اکٹھی کرنا چاہتی ہوں 9