ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 84
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 16 وطن سے محبت لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرٌ (الاحزاب: 22) یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وطن سے بہت محبت کرتے تھے۔وطن کی محبت انسان کی فطرت میں گوندھی گئی ہے اور شرعی طور سے جائز بلکہ لازم محبت ہے۔اسی محبت سے ملک کی رونق آبادی اور ترقی ہوتی ہے۔اس تحریر میں آپ کی اپنے وطن سے محبت کے بارے میں چند واقعات درج ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو ذمہ داری کے احساس سے آپ گھبرا گئے۔اس انوکھے واقعہ سے آپ پر کپکپی طاری ہو گئی۔حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سارا واقعہ سنایا آپ ایک زیرک معاملہ فہم مدبر خاتون تھیں۔آپ کی صداقت پر کامل یقین تھا تاہم آپ کی جمعیت خاطر اور اطمینان قلب کے لئے آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔جو دین کے بہت بڑے عالم تھے۔ورقہ بن نوفل نے سارا واقعہ سنا تو بائبل میں موجود پیش گوئیوں کے مطابق پہچان گئے کہ نوشتوں کا لکھا پورا ہونے والا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نزول وحی کی تفصیلات سن کر کہا: آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے گی آپ کی تکذیب ہو گی۔آپ یہ سن کر خاموش رہے۔پھر اس نے کہا آپ کو تکلیف اور اذیت دی جائے گی۔آپ یہ سن کر بھی خاموش رہے۔پھر بتایا کہ آپ کو اپنے وطن سے نکال دیا جائے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیرت سے فرمایا: أوَ مُخْرِجی هم؟ کیا وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے؟ ہاں تیری قوم تجھے نکال دے گی کیونکہ آج تک کوئی شخص اُس تعلیم کو لے کر نہیں آیا جس تعلیم کو تو لے کر کھڑا ہوا ہے مگر اُس کی قوم نے اس کی ضرور دشمنی کی ہے اگر مجھے وہ دن دیکھنا نصیب ہوا جب تم اپنی قوم کے سامنے اس تعلیم کا اعلان کروگے اور قوم تیری شدید مخالفت کرے گی یہاں تک کہ وہ تجھے اس شہر میں سے نکال دے گی تو میں 84