ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 78
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت مسیح موعود سیا لکوٹ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے محلہ جھنڈانوالہ میں ایک چوہارے پر قیام فرمایا۔ایک دفعہ حضور پندرہ سولہ افراد کے ساتھ اس چوبارے میں آرام فرمارہے تھے کہ شہتیر سے تک تک کی آواز آئی اس پر آپ نے ساتھیوں کو سختی سے نکلنے کا حکم دیا جب آپ کے ساتھی نکل گئے تو آپ نے باہر آنے کا قصد کرتے ہوئے ابھی دوسرے زینے پر ہی قدم رکھا تھا کہ چھت دھڑام سے آگری اور آپ معجزانہ طور پر بچ گئے۔“ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 18 ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرے میں میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا اسی وقت وہ بجلی ایک مندر پر گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے مطابق طواف کے لئے پیچ در پیچ ارد گرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا بجلی تمام چکروں میں سے کر اندر جاکر اس پر پڑی اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گی۔ہو (سيرة المهدی حصہ سوم صفحہ 532) ”مولوی محمد حسین بٹالوی نے سیدنا حضرت مسیح موعود کو قتل کرانے کی بھی متعدد بار سازش کی چنانچہ مولوی عمر الدین شملوی کی شہادت ہے کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور حافظ عبدالرحمن صاحب سیاح امر تسری آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ مرزا صاحب کو چپ کرانے کی کیا تجویز ہو حافظ عبدالرحمن صاحب نے کہا میں بتاتا ہوں مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ اب میں مباحثہ نہیں کروں گا انہیں مباحثے کا چیلنج دے دو اگر وہ تیار ہو گئے تو انہیں کا قول یاد دلا کر انہیں نادم کیا جائے کہ ہم پبلک کو صرف یہ دکھانا چاہتے کہ آپ کو اپنے قول کا پاس نہیں اور اگر مباحثے سے انکار کیا تو ہم یہ اعلان کردیں گے کہ دیکھو ہمارے مقابل پر آنے کا حوصلہ نہیں مولوی عمر الدین نے کہا مجھے کہو تو میں جا کر انہیں مار آتا ہوں جھگڑا ہی ختم ہو جائے اس پر وہ کہنے لگے تمہیں کیا معلوم ہم یہ سب تدبیریں کر چکے ہیں کوئی سبب ہی نہیں بنتا۔یہ سنتے ہی مولوی عمر الدین صاحب کے دل میں حضور کی صداقت کا یقین ہو گیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی اس حسرت کا دوبارہ اظہار اور عیسائی حکومت کو آپ کے قتل پر اُکسا کر 1897ء میں لکھا حکومت و سلطنت اسلامی ہوتی تو ہم اس کا جواب آپ کو دیتے۔اسی وقت آپ کا سر کاٹ کر آپ کو مردار کر دیتے۔سچے نبی کو گالیاں دینا مسلمانوں کے نزدیک ایک ایسا کفر اور ارتداد 78