ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 53
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھلتی ہے کہ جس قدر دنیا سے دور ہوں گے خدا سے قرب بڑھے گا۔آپ پر ہر قسم کی تنگی ترشی اور فراخی وشاہی کا وقت آیا مگر آپ کے دستور العمل میں فرق نہ آیا۔آپ کی دعا تھی: یا اللہ ! مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھنا اسی حالت میں موت دینا اور قیامت کے دن مسکینوں کی جماعت میں اٹھانا۔(ترمذی کتاب الزهد باب (44) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دئے۔سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بار گاہ طیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لو گوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دلآزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 289 – 290 حاشیہ نمبر (11) آپ کے لئے یہ ساری کائنات اس میں موجود سب نعماء تخلیق کی گئی تھیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے لئے تخلیق کئے گئے تھے اس لئے آپ کی ساری اعلیٰ لذات اپنے خالق و مالک میں تھیں۔آپ صرف عبادت کے لئے زندہ رہنے کے لئے کھاتے پیتے آپ کی خوراک سادہ اور معمولی ہوا کرتی تھی اس کا ذکر کئی روایات میں ملتا ہے۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ بھانجے ہم دیکھتے رہتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں دو دو ماہ تک آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔اس پر میں نے پوچھا خالہ ! پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم کھجوریں کھاتے اور پانی پیتے تھے۔سوائے اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے انصاری تھے ان کے دودھ دینے والے جانور تھے وہ رسول اللہ کو ان کا دودھ تحفہ بھیجتے تھے جو آپ ہمیں پلا دیتے تھے۔ا بخاری کتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها باب فضل الهبة ) 53