ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 395
اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذکر کر۔میری نعمت کا شکر کر۔(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 665) خُذُوا الرِّفْقَ فَإِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَيْرَاتِ (تذکره صفحه 323 موجودہ ایڈیشن) نرمی کرو۔نرمی کرو۔کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔اس الہام الہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں: اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آدیں۔وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔۔۔روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لیے دعا کرتے رہو۔“ (اربعین نمبر 3، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 428 حاشیہ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سر تا پا آنحضور صلی الم کا عکس تھے فرماتے ہیں کہ ”خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خُلق اور نرمی سے گم گشتہ لو گوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 143) مذہب سے دور انسانوں کو دعوت الی اللہ آسان کام نہیں۔آپ عمل یا لال کی کمی بھی اپنے آقا و مطاع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انتہائی نرم زبان میں خاکساری کے ساتھ پیغام دیتے۔بات کا آغاز شائستگی اور نرمی سے کرتے۔اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے بھائیو! جیسے محبت بھرے الفاظ سے مخاطب کے دل کی گرہیں کھلنے لگتیں۔اس پیارے طرز تخاطب کے ساتھ اپنے بہشت اپنے خدا، اپنے پیشوا محمد مصطفی صلی للی کم اور اپنے چاند اپنے کعبہ قرآن پاک کی توصیف بیان کر کے نیکی کی ترغیب دیتے جس سے دلوں میں رضائے الہی کا شوق جوش اور تپش پیدا ہوتی۔عزیزو! سنو! که قرآں حق کو ملتا نہیں بھی انسان 395