ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 289 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 289

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام صاحبزادی حضرت زینب کا قاتل ہبار جیسے اسلام کے کئی بڑے بڑے دشمن بھی شامل تھے۔لیا ظلم کا عفو سے انتقام عليك الصلوة عليك السلام آپ کو صرف حکم الہی پہنچانے کا فریضہ سونپا گیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: الله سة بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد نبی جدا ہوتے تھے اور بادشاہ جدا ہوتے تھے جو امور سیاست کے ذریعے سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت صلی علی ایم کے وقت میں یہ دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب ہی کو عطا کئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ الگ کر کے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے: وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَالْأَمِينَ وَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّهَا عَلَيْكَ الْبَلغُ (ال عمران: 21) ترجمہ: اور اے پیغمبر ! اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پاگئے۔اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچا دو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھا، نہ بحیثیت رسالت۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) (البقرة: 191) ترجمہ: تم خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 242 - 243) 289