ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 288
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان ہی نہ ہو ا ہوتا۔“ جانی دشمنوں کو معافی (مسلم کتاب الایمان ) دشمن اسلام ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ صل ال ریلی سے جنگیں کرتا رہا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم ملی این نام کے اعلان عفو اور امان کے باوجود ایک دستے پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا اس کے قتل کا حکم جاری ہو چکا تھا۔لیکن آپ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت آپ نے عطا فرمائی۔(ماخوذ موطا امام مالك كتاب النكاح ) عکرمہ نے پوچھا کہ اپنے دین پر رہتے ہوئے؟ یعنی میں مسلمان نہیں ہوا۔اس شرک کی حالت میں مجھے آپ نے معاف کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر عکرمہ کا سینہ اسلام کے لئے کھل گیا اور بے اختیار کہہ اٹھا کہ اے ! محمد صل للہ ہم آپ واقعی بے حد حلیم اور کریم اور صلہ رحمی کرنیوالے ہیں۔رسول اللہ صلی الیکم کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گئے۔السيرة الحلبیہ، جلد سوم صفحہ 109 مطبوعہ بیروت) مشرک سردار صفوان بن امیہ نے جنگ بدر کے بعد عمیر بن وہب کو زہر میں بھی تلوار کے ساتھ آنحضرت صلی الم کو نشانہ بنانے کے لئے مدینہ بھیجا۔فتح مکہ کے بعد بھاگ کر جدہ چلا گیا۔اس کے چچا زاد نے امان کی درخواست کی۔آنحضور صلی علیم نے امان دی اور اپنا عمامہ بطور نشانی عطا فرمایا۔جس پر صفوان لوٹ آیا۔لیکن بجائے ایمان لانے کے یہ کہا: میں تمہارا دین ابھی قبول نہیں کروں گا مجھے دو مہینے کی مہلت دو “ آپ صلی الی ایم نے جواباً فرمایا: ”دو نہیں تم چار مہینہ لے لو۔“ (سیرت حلبیہ اردو جلد سوم نصف اول صفحه 286 - 287 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی 1999ء) فتح مکہ کے موقع پر معافی پانے والوں میں ابوسفیان، ہندہ، حضرت حمزہ کا قاتل وحشی اور آپ کی کم کی 288