ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 28
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 5 تبلیغ اسلام کے لیے سفر اور تکالیف اٹھانا تبلیغ اسلام کے لیے سفر اختیار کرنا نبیوں کی سنت ہے۔آنحضرت صلی للی نمی کو شعب ابی طالب کی محصوری سے آزادی ملی تو اہل طائف کو دعوت اسلام کی ٹھانی۔طائف مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلے پر ہے۔شوال 10 نبوی کو آپ حضرت زید بن حارثہ کے ہمراہ طائف تشریف لے گئے وہاں دس دن قیام فرمایا اور وہاں کے سرداروں اور عام لوگوں کو اسلام کا پیغام دیا۔اہل طائف نے نہ صرف اس پیغام پر کان نہ دھرا بلکہ مذاق اڑایا۔حتی کہ وہاں کے رئیس عبدیالیل نے کہا: گر آپ سچے ہیں تو مجھے آپ سے گفتگو کی مجال نہیں اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو گفتگو لا حاصل ہے“۔آپ واپس جانے لگے تو اس بد بخت نے آوارہ قسم کے آدمی پیچھے لگا دیے جنہوں نے آپ کو برا بھلا کہا گالیاں دیں اور پتھر برسائے تین میل تک آپ کا پیچھا کیا۔آپ لہو لہان ہو گئے۔تین میل کا سفر اسی طرح کرنے کے بعد آپ نے عتبہ بن ربیعہ کے باغ میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ”اے میرے رب! میں اپنے ضعف قوت اور قلت تدبیر اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کرتا ہوں۔اے میرے خدا! تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بے کسوں کا تو ہی نگهبان و محافظ ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے۔میں تیرے ہی منہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہوتا ہوں کیونکہ تو ہی ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا ہے اور انسان کو دنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔“ عتبہ اور شیبہ نے آپ کو اس حال میں دیکھا تو اپنے نو کر عداس کو کچھ انگور آپ کو پیش کرنے کے لیے بھیجا۔آپ نے عداس کو اسلام کا پیغام دیا جس پر اُس نے اخلاص ظاہر کیا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صفحہ 204 - 205) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تبلیغ اسلام کی غرض سے کئی شہروں کے دورے فرمائے جن میں سے دہلی اور لدھیانہ میں آپ سے وہی سلوک ہوا جو ہمارے سید و مولا آنحضرت سے سفر طائف میں ہوا تھا۔28