ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 270
ساتھ میں نے بسر کئے۔من بہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوشحالاں و بد حالاں شدم ہر کسے از ظن خود شدیار من وز درون من بخست اسرار من حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور انہی زمینداری کے کاموں میں مصروف گیا مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا۔“ ہو۔۔میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر کار ناکامی تھی“ ہر (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 184 – 187 حاشیہ) - قریباً چار سال سیا لکوٹ میں ملازم رہنے کے بعد واپس آئے تو اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت اُن کے زمینداری کے مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام پر نہ لگتا تھا۔چونکہ آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبر دار تھے اس لیے والد صاحب کا حکم تو نہ ٹالتے تھے لیکن اس کام میں آپ کا دل رگز نہ لگتا تھا۔چنانچہ اُن دنوں کے آپ کو دیکھنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرہ پر بشاشت کے آثار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے کہ شاید فتح ہو گئی ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ ہار گئے ہیں۔جب وجہ دریافت کی جاتی تو فرماتے کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا، منشائے الہی یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہو گئی ہے۔یاد الہی میں مصروف رہنے کا موقعہ ملے گا۔۔چونکہ حضرت اقدس ایک عبادت گزار فرزند تھے اس لئے آپ کے والد بزرگوار کو آپ سے محبت بھی ایک عجیب طرز کی تھی۔ایک طرف نوکری پہ زبردستی لگواتے اور پھر اپنے اس صاحبزادے کی دوری اور فراق بھی قابل برداشت نہ تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام والد ماجد کے پر زور اصرار پر اطاعت و فرمانبرداری کے جذبہ کے تحت 1860ء کے لگ بھگ سیا لکوٹ میں ملازم ہوئے تو تھوڑے ہی عرصہ ، یعنی چند سال کے بعد والد صاحب نے انہیں واپس بلالیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کی والدہ صاحبہ سخت بیمار تھیں 270