ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 268
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام عرض کی: ”با! بھلا بتلاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مالک الملک احکم الحاکمین کا ملازم ہو اور اپنے رب العالمین کا فرمانبردار ہو اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پرواہ ہے۔ویسے میں آپ کے حکم سے بھی ماہر نہیں۔“ والد صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہو جاتے اور فرماتے اچھا بیٹا جاؤ ، اپنا خلوت خانہ سنبھالو۔۔۔کہتے کہ یہ میرا بیٹا ملا ہی رہے گا۔میں اس کے واسطے کوئی مسجد ہی تلاش کردوں جو دس، ہیں من دانے ہی کمالیتا۔مگر میں کیا کروں، یہ تو ملا گری کے بھی کام کا نہیں۔ہمارے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں۔چالاک آدمیوں کا ہے۔پھر آب دیدہ ہو کر کہتے کہ جو ہے حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے۔یہ شخص زمینی نہیں آسمانی ہے۔یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔“ تذكرة المهدی حصہ اوّل و دوم صفحه 300 - 302) ( بالآخر والد صاحب کی اطاعت میں اپنا خلوت خانہ جو دراصل کتب خانہ تھا چھوڑ کر مقدمات وغیرہ کی پیروی کرنی پڑی مگر کس دل کے ساتھ فرماتے ہیں: والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگا یا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت ساوقت عزیز میرا ان بے ہودہ جھگڑوں میں ضائع کیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگادیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔تہ۔۔۔تاہم میں خیال کرتاہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بر بالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف۔صحیح اور سچی بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔“۔کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 182 - 184 حاشیہ) ان مقدمات کے سلسلے میں آپ کو قادیان سے بٹالہ، گورداسپور، ڈلہوزی، امرت سر اور لاہور کے دشوار سفر کرنے پڑتے کاغذات کی نقول وغیرہ کروانا وقت طلب اور ہمت کا کام تھا۔آپ اپنے ساتھیوں سے کہتے ”مجھ کو مقدمہ کی تاریخ پر جانا ہے میں والد صاحب کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا دعا کرو کہ اس مقدمہ 268