ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 26
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام نیز آپ نے فرمایا: لو عَاشَ إِبْرَاهِيمُ) لَكَانَ صِدِّيقَا نَبِيًّا ترجمہ: اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ سچا نبی ہوتا۔ابن ماجه جلد اول باب 454 حدیث 1572) آخری عمر کا بیٹا کچے راستباز نبی ہونے کی بشارت کا حامل قبر میں سُلا کے اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے صبر جمیل کے پیکر نے اپنے غم کا اظہار ان درد انگیز الفاظ میں فرمایا: تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبِّ، وَإِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَيَحْنُونُونَ سولہ ماہ میں راہیء ملک عدم ہو جانے والے بچے کی استعداد کے بارے میں پڑھتے ہوئے اس دور کے مسیحا اور ظل محمد لی لی نام کا ایک ایمان افروز واقعہ یاد آتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ایک سولہ ماہ کا بچہ فوت ہوا تھا۔دونوں بچوں کی اعلیٰ استعداد کے بارے میں پیش خبریاں تھیں۔دونوں کو اللہ تعالیٰ نے عمدہ رنگ میں صبر جمیل کی توفیق دی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 20 فروری و 8 اپریل 1886ء اور 7 اگست 1887ء کو نو سال کے اندر ایک غیر معمولی صفات کے حامل لمبی عمر پانے والے بیٹے کی پیدائش کے متعلق الہام مشتہر فرمائے تھے۔ان میں ایک غیر معمولی صفات کے حامل لڑکے کی پیشگوئی تھی جس کی عمدہ صفات اور لمبی عمر کے بارے میں بتایا گیا تھا۔اس میں ایک کم عمر والے مہمان کی پیشگوئی بھی تھی۔15 اپریل 1886ء کو صاحبزادی عصمت پیدا ہو ئیں تو کم فہم معاندین نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بیٹا کہا تھا بیٹی پیدا ہو گئی۔پھر سوا سال کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے 7 اگست 1886ء کو ایک بیٹے سے نوازا جو صرف سولہ ماہ زندہ رہ کر 4 نومبر 1888ء کو خالق حقیقی سے جاملا۔بشیر اول کی وفات پر مخالفین کو اپنی پرا گندگی طبع کے مظاہرے کا خوب موقع ہاتھ آیا اور جتنا بس چلا مخالفت میں بغیر سوچے سمجھے شور مچا دیا۔حضرت اقدس دوسرے بچے کی وفات پر اپنا صدمہ پس پشت ڈال کر راضی برضا دل کے ساتھ جماعت کو سنبھالنے کی فکر میں لگ گئے اور اس وفات میں مضمر اللہ جل شانہ کی قدرتوں کے کئی رنگ دکھانے کے لئے مضمون لکھا۔جس میں مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے پیشگوئی پوری ہونے کے کئی رخ اور بدخواہوں کے اعتراضات کے جوابات میں سیر حاصل مدلل بحث کی۔26