ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 223 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 223

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ہی ست تھا اور اکثر آپ کے ارشادات کی تعمیل میں دیر کر دیا کرتا تھا۔بائیں سفر میں مجھے ساتھ رکھتے“ (سیرت حضرت مسیح موعود مرتبہ حضرت یعقوب علی عرفانی صفحہ 349 - 350) حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود حافظ حامد علی صاحب کو حاضر غائب اسی پورے نام سے پکارتے یا میاں حامد علی کہتے۔(سیرت حضرت مسیح موعود مرتبہ حضرت یعقوب علی عرفانی صفحہ 338) حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی تحریر فرماتے ہیں: حافظ حامد علی کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ اور معاملہ کرتے تھے جیسا کسی عزیز سے کیا جاتا ہے اور یہ بات حافظ حامد علی ہی پر موقوف نہ تھی حضرت کا ہر ایک خادم اپنی نسبت یہی سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ اور کوئی عزیز آپ کو نہیں۔بہر حال حافظ حامد علی کو ایک دفعہ کچھ لفافے اور کارڈ آپ نے دیئے کہ ڈاک خانہ میں ڈال آؤ۔حافظ حامد علی کا حافظہ کچھ ایسا ہی تھا۔پس وہ کسی اور کام میں مصروف ہو گئے اور اپنے مفوّض کو بھول گئے۔ایک ہفتہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (جو اُن دنوں میں میاں محمود اور ہنوز بچہ ہی تھے) کچھ لفافے اور کارڈ لئے دوڑتے ہوئے آئے کہ اتا ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے خط نکالے ہیں۔آپ نے دیکھا تو وہی خطوط تھے جن میں سے بعض رجسٹرڈ خط بھی تھے اور آپ اُن کے جواب کے منتظر تھے۔حامد علی کو بلوایا اور خط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا کہا: ”حامد علی! تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے ذرا فکر سے کام کیا کرو۔“ ضروری اور بہت ضروری خطوط جن کے جواب کا انتظار مگر خادم کی غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں اور بجائے ڈاک میں جانے کے وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں سے جا ملتے ہیں اس پر کوئی باز پرس کوئی سزا اور کوئی تنبیہ نہیں کی جاتی۔(سیرت حضرت مسیح موعود صفحہ 109) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیا لکوئی فرماتے ہیں، کہ ایک عورت نے اندر سے کچھ چاول چرائے، چور کا دل نہیں ہوتا اس لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بیتابی اور اس کا ادھر اُدھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے۔کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔شور پڑ گیا۔اس کی بغل سے کوئی پندرہ سیر کی گٹھڑی چاولوں کی نکلی ادھر سے ملامت اُدھر سے پھٹکار ہو رہی تھی جو حضرت کسی تقریب سے ادھر آنکلے پوچھنے پر کسی نے واقعہ کہہ سنایا۔فرمایا: 223