ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 222
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات: 14) (ملفوظات جلد اول صفحہ 22-23 رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء) جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما آنحضرت صلی لی ایم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدمت گزاروں کا خیال رکھنے کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں میں سے ایک پیرا پہاڑ یہ تھا۔مزدور آدمی تھا جو پہاڑی علاقے سے آیا ہوا تھا۔بالکل جاہل اور اجڈ آدمی تھا۔لیکن بہت سی غلطیاں کرنے کے باوجود کبھی یہ نہیں ہوا کہ حضرت مسیح موعود نے کبھی اسے جھڑ کا ہو۔ایک دفعہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اچانک بیمار ہو گئے گرمی کا موسم ہونے کے باوجود ایک دم ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو گئے اور مسجد کی چھت پر ہی مغرب کی نماز کے بیٹھے ہوئے تھے تو اس وقت جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کو فوراً فکر ہوئی، تدبیریں ہونی شروع ہوئیں کہ کیا کرنا ہے۔یہی جو پیرا تھا، ان کو بھی خبر پہنچی، وہ گارے مٹی کا کوئی کام کر رہے تھے، یہ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اندر آگئے اور یہ نہیں دیکھا کہ دری بچھی ہوئی ہے یا کیا ہے تو اسی فرش پہ نشان بھی پڑنے شروع ہو گئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبانے شروع کر دیئے۔تو لوگوں نے ذرا ان کو گھورنا شروع کیا، ڈانٹنا شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ”اس کو کیا خبر ہے جو کرتا ہے کرنے دو کچھ حرج نہیں۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود مرتبہ حضرت یعقوب علی عرفانی صفحہ 350) حضرت مسیح موعود کے پرانے خادموں میں سے ایک حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم تھے۔وہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرصہ دراز تک رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق اور برتاؤ کا حافظ صاحب سے کرتے تھے ان پر ایسا اثر تھا کہ وہ بارہا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے میں نے ایسا انسان کبھی دیکھا ہی نہیں۔بلکہ زندگی بھر حضرت صاحب کے بعد کوئی انسان اخلاق کی اس شان کا نظر نہیں آتا تھا۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ: " مجھے ساری عمر کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ جھڑ کا اور نہ سختی سے خطاب کیا۔بلکہ میں بڑا 222