ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 211
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو حضرت نواب مبار کہ بیگم بیان کرتی ہیں: ” مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد قدر و محبت کرنے کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں بڑھا کرتی تھی۔آپ باوجود اس کے کہ انتہائی خاطر داری اور ناز برداری آپ کی حضرت اقدس کو ملحوظ رہتی کبھی حضور کے مرتبہ کو نہ بھولتی تھیں۔بے تکلفی میں بھی آپ پر پختہ ایمان اور اس وجود مبارک کی پہچان آپ کے ہر انداز و کلام سے مترشح تھی جو مجھے آج خوب یاد ہے۔آخر میں بار بار وفات کے متعلق الہامات ہوئے، تو ان دنوں بہت غمگین رہتیں۔ایک بار مجھے یاد ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت اقدس سے کہا۔(ایک دن تنہائی میں الگ نماز پڑھنے سے پہلے نیت باندھنے سے پیشتر ) کہ ”میں ہمیشہ یہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں“ ان الفاظ پر غور کریں اور اس محبت کا اندازہ کریں جو حضرت مسیح موعود آپ سے فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی آپ میں واقع ہوئی پھر میں نے آپ کو پر سکون مطمئن“ اور بالکل خاموش نہیں دیکھا۔حق اور محض حق ہے کہ حضرت اماں جان کو خدا تعالیٰ نے سچ مچ اس قابل بنایا تھا۔کہ وہ ان کو اپنے مامور کے لئے چن لے اور اس وجود کو اپنی خاص نعمت“ قرار دے کر اپنے مرسل کو عطا فرمائے۔“ مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی صفحہ 48 - 49) ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی پیش آتا ہے۔حضور علیہ السلام اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے، بہت رنجیدہ ہوئے، بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔" حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارہ میں گفتگو فرماتے رہے اور آخر پر فرمایا: ”میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازه کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بائیں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکا لا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے“ 211 21 (ملفوظات جلد اول)