ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 187 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 187

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام چلو! میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ایک دفعہ اراشہ نامی شخص مکہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابو جہل نے اس سے یہ اونٹ خرید لئے۔مگر اونٹوں پر قبضہ کر لینے کے بعد قیمت ادا کرنے سے انکاری ہو گیا یا ٹال مٹول سے کام لینے لگا۔اس پر وہ شخص جو مکہ میں اکیلا تھا، مسافر تھا، کوئی اس کا دوست ساتھی نہیں تھا بے یارو مدد گار تھا، بہت پریشان ہوا اور چند دن تک اسی طرح ابو جہل کے پیچھے پھرتا رہا، اس کی منت سماجت کرتا رہا۔مگر ہر دفعہ اس کو اسی طرح ٹال مٹول سے جواب ملتا رہا، آخر ایک دن وہ کعبہ میں جہاں قریش سردار بیٹھے ہوئے تھے گیا اور کہنے لگا کہ اے معززین قریش! آپ میں سے ایک شخص ابو الحکم ہے۔اس نے میرے اونٹوں کی قیمت دبا ر کھی ہے مہربانی کر کے مجھے اس سے دلوا دیں۔قریش کو شرارت سوجھی، انہوں نے مذاقا کہا کہ ایک شخص ہے محمد بن عبداللہ نامی وہ تمہیں یہ قیمت دلوا سکتا ہے، تم اس کے پاس جاؤ۔ان کا تو یہی خیال تھا کہ آنحضرت صلی می کنم کے پاس جب یہ جائے گا تو آپ ہر حال میں انکار کریں گے اور جب آپ انکار کریں گے تو ان لو گوں کو ایک تو مذاق اڑانے کا موقع ملے گا، دوسرے باہر سے آنے والے لوگوں کو آپ کی حیثیت کا پتہ لگ جائے گا۔بہر حال جب یہ اراشہ وہاں پہنچا، آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اپنا مدعا بیان کیا کہ اس طرح میں نے ابو جہل سے رقم لینی ہے۔قریش نے اس آدمی کے پیچھے بھی اپنا ایک آدمی بھیج دیا کہ دیکھیں! اب کیا ہوتا ہے۔بہر حال اس نے جب آنحضرت صلی علیم کو اپنی کہانی سنائی اور یہ ذکر کیا کہ ابو الحکم نے میری رقم دبا ر کھی ہے اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ ہی ہیں جو میری رقم دلوا سکتے ہیں۔آپ کی بڑی منت کی کہ مجھے یہ رقم دلوا دیں۔آپ فوراً اٹھے اور کہا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازے پر دستک دی، اس کو باہر بلوایا۔وہ باہر آیا تو آپ کی شکل دیکھتے ہی ایک دم حیران پریشان ہو گیا۔آپ نے کہا تم نے اس آدمی کی یہ رقم دینی تھی وہ تم ادا کر دو۔اس نے کہا ٹھہریں میں ابھی رقم لے کے آتا ہوں۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت ابو جہل کا رنگ بالکل فق ہو رہا تھا۔کہا محمد! ٹھہرو میں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔چنانچہ وہ رقم لے کر آیا اور اسی وقت اس شخص کے حوالے کر دی اور وہ بھی آنحضرت علی علی ظلم کا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔پھر وہ قریش کی مجلس میں دوبارہ گیا اور ان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ تم نے مجھے صحیح آدمی کا پتہ بتایا تھا جس کی وجہ سے مجھے رقم مل گئی ہے۔اس پر وہ جو سارے رؤسا بیٹھے تھے بڑے پریشان ہوئے۔پھر جب وہ آدمی جس کو پیچھے بھیجا تھا آیا تو اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔اس نے یہ سارا قصہ سنایا تو یہ سب لوگ بڑے حیران تھے۔تھوڑی دیر بعد ابو جہل خود بھی وہاں اس مجلس میں آ گیا تو اس کو دیکھتے ہی لوگوں نے پوچھا یہ تم نے کیا کیا کہ فوری طور الله سة 187