ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 176
عمل کر کے دکھایا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 109) مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں عیسائیوں کے گواہ کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے تو حضرت اقدس کے وکیل مولوی فضل الدین صاحب نے جرح کے دوران گواہ سے ایسے سوالات کرنے چاہے جو مولوی صاحب کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتے۔لیکن حضور نے باصرار اور بزور ایسا کرنے سے روک دیا۔میرا مقدمہ آسمان پر ہے حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائیوں میں سے مرزا امام الدین نے اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس راستہ کو جو بازار اور مسجد مبارک کا تھا ایک دیوار کے ذریعہ بند کر دیا۔سب نمازیوں کو پانچ وقت مسجد مبارک میں جانے کے لئے حضرت اقدس کے مکانات کا چکر کاٹ کر آنا پڑتا۔جماعت میں بعض کمزور اور ضعیف العمر انسان بھی تھے۔بعض نابینا تھے اور بارشوں کے دنوں میں راستہ میں کیچڑ ہو تا تھا اور بعض بھائی اپنے مولی حقیقی کے حضور نماز کے لئے جاتے ہوئے گر پڑتے تھے اور ان کے کپڑے گارے کیچڑ میں لت پت ہو جاتے تھے۔اُن تکلیفوں کا تصور بھی آج مشکل ہے جبکہ احمد یہ چوک میں پکے فرش پر سے احباب گزرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود اپنے خدام کی ان تکالیف کو دیکھ کر بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔مگر کچھ چارہ سوائے اس کے نہ تھا کہ حضرت رب العزت کے سامنے گڑ گڑائیں۔آخر مجبوراً عدالت میں جانا پڑا اور عدالت کے فیصلہ کے موافق خود دیوار بنانے والوں کو اپنے ہی ہاتھ سے دیوار ڈھانی پڑی۔عدالت نے نہ صرف دیوار گرانے کا حکم دیا بلکہ ہر جانہ اور خرچہ کی ڈگری بھی فریق ثانی پر کر دی۔مرزا نظام الدین صاحب کو نوٹس ملا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معافی کا ایک خط لکھا۔حضرت اقدس نے دیوار کی تکلیف اٹھائی ہوئی تھی مگر کمال رحم سے اسے معاف کر دیا فرمایا کہ و آئندہ کبھی اس ڈگری کو اجرا نہ کرایا جاوے۔ہم کو دُنیا داروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کام نہیں۔انہوں نے اگر تکلیف دینے کے لئے یہ کام کیا تو ہمارا یہ کام نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے دُنیا میں نہیں بھیجا۔“ (خلاصه از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 118 - 119) حضرت حکیم فضل الدین کے ساتھ قادیان کے ایک جو لاہا نے (جو ہمیشہ مقدمہ بازی ضروری سمجھتا تھا) 176