ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 175
ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے لوگ آپ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ کو نعوذ باللہ مذمّہ کہا کرتے تھے۔تو آپ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کی مذمت کو کیا کروں۔میرا نام تو اللہ تعالیٰ نے محمد رکھا ہوا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم)۔فرمایا کہ اسی طرح اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری نسبت فرمایا ہے، يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرْشِهِ یعنی اللہ اپنے عرش سے تیری حمد کرتا ہے، تعریف کرتا ہے (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 450) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: ”مجھے چودھری حاکم علی صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ حضرت صاحب کی اجازت ہوتی تو اس کی وہیں تکہ بوٹی اُڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس مخش زبانی کی گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔دو آدمی اسے نرمی سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں“ حد ہو (سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 257 - 258 روایت نمبر 281 جدید ایڈیشن) ڈا کٹر ہنری مارٹن کلارک جو امر تسر کے میڈیکل مشن کے مشنری تھے اور مباحثہ آتھم میں عیسائیوں کی جانب سے پریذیڈنٹ تھے ایک دن خود بھی مناظر رہے انہوں نے 1897ء میں حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک مقدمہ اقدام قتل کا دائر کیا۔یہ مقدمہ کچھ عرصہ تک چلتا رہا اور بالآخر محض جھوٹا اور بناوٹی پایا گیا اور حضرت اقدس عزت کے ساتھ اس مقدمہ میں بری ہوئے۔۔۔کپتان ڈگلس ڈسٹر کٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے کہا کہ ”کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک پر مقدمہ چلائیں اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کو حق ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا: ”میں کوئی مقدمہ کرنا نہیں چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔اس موقع پر اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا جس پر قتل کے اقدام کا مقدمہ ہو وہ اپنے دشمن سے ہر لینے کی کاشش کرتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دشمنوں کو معاف کرو کی تعلیم 66 ممکن انتقام صحیح 175