ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 170 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 170

اسلام کی مخالفت کر رہی ہے۔(المعجم الكبير للطبراني ) غزوہ احد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا اور اہل مکہ خصوصاً غرباء سخت تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔آنحضرت صلی الی یوم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ازراہ ہمدردی مکہ کے غرباء کے لئے اپنی طرف سے کچھ چاندی بھجوائی اور اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ آپ کا دل اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی حقیقی ہمدردی رکھتا ہے مدافعتی جنگوں میں آپ نے ایسا اسوۂ حسنہ قائم فرمایا جو آئندہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے ایک مثال بنا۔قرآنی احکام کے مطابق دشمنوں اور دشمنی کو ختم کرنے کے لئے عدل و انصاف پر مبنی معاہدات اور امان نامے لکھے۔یہود، نصاری اور قریش مکہ سب کو دینی و دنیوی معاملات میں عدل و انصاف کا حق دیا۔میثاق مدینہ اور صلح کی شرائط برابری کی سطح پر طے کی گئیں۔حدیده ہم اس سے ضرور اچھا برتاؤ کریں گے۔رئیس المنافقین عبد اللہ ابی سلول کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔وہ ہر موقع پر اسلام اور بانی اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا۔آنحضرت کی شان میں برملا سخت گستاخی کرتا۔ایک دفعہ حضرت عمر نے آنحضرت سے اجازت چاہی کہ اُس کی گردن اڑادیں۔لیکن آپ نے فرمایا: عمر جانے دو۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لو گوں میں یہ چرچا ہو کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قت کرواتا پھر تا ہے۔جب اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن ابی جو مخلص مسلمان تھے کو یہ اطلاع ملی تو وہ آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لاڈالوں۔آپ نے فرمایا نہیں وہ تمہارا باپ ہے اس سے نیکی اور احسان کا سلوک کرو۔(مجمع الزوائد لهيثمي جلد 1 صفحہ 301) ایک دفعہ عبداللہ بن ابی نے کہا تھا لیخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ - یعنی عزت والا شخص یا گروہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دے گا تو حضرت عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا 170