ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 16
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام فتح مکہ کے دن شام کو آپ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے ہاں تشریف لائے۔بھوک محسوس ہوئی تو آپ نے ان سے پوچھا کھانے کو کچھ ہے؟ جواب ملا روٹی کا ایک ٹکڑا ہے۔آپ نے فرمایا وہی لے آؤ۔آپ نے اس ٹکڑے کو توڑ کر پانی میں ڈالا۔اس پر نمک ڈالا اور سر کہ چھڑک کر بطور سالن استعمال فرمایا۔(ترمذی ابواب الاطعمه باب ما جاء فى الخل) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اسی حصن حصین کا عکس حسین تھے۔اپنی ذات، نام نمود، شہرت، عزت، ہر دنیاوی وجاہت سے بے نیاز در مولی کی گدائی میں مگن رہتے۔اللہ تعالیٰ نے یہ سند عطا فرمائی: تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں“ (تذکره صفحه 595) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت شیخ صاحب دین کا بیان فرمودہ واقعہ درج ذیل ہے: غالباً 1904ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لاہور کی جماعت کو اطلاع ملی کہ حضور فلاں گاڑی پر لاہور پہنچ رہے ہیں۔ہم لوگ حضور کی پیشوائی کے لیے ریلوے سٹیشن پر گئے ان دنوں دو گھوڑا فٹن گاڑی کا بڑا رواج تھا۔ہم نے فٹن تیار کھڑی کر دی۔جب حضور سوار ہو ئے تو ہم نوجوانوں نے جیسا کہ عام رواج تھا گاڑی کے گھوڑے کھلوائے اور گاڑی کو خود کھنچنا چاہا۔حضور نے ہمارے اس فعل کو دیکھ کر فرمایا ہم انسانوں کو ترقی دے کر مدارج کے انسان بنانے آتے ہیں۔نہ کہ بر عکس اس کے انسانوں کو گرا کر حیوان بناتے ہیں کہ وہ گاڑی کھینچنے کا کام دیں۔مفہوم یہی ہے شاید الفاظ کم و بیش ہوں۔الفضل 8 مئی 1938ء) اس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے 16 روزنامه الفضل آن لائن لندن 9 نومبر 2021ء)