ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 146 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 146

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تشریف لائے۔میرے ساتھ میرے بستر میں لیٹے پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کر لوں۔میں نے کہا خدا کی قسم! مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے اور مشکیزہ سے وضو کیا۔نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو آپ کے سینہ گرنے لگے۔نماز کے بعد آپ دائیں طرف ٹھیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے دائیں رخسار پر تھا۔آپ نے پھر رونا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔آپ اسی حالت میں تھے کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلال آئے جب انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔(تفسیر روح البیان زیر تفسیر سوره آل عمران آیت 191 - 192) مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس وقت شدت گریہ و زاری کے باعث آپ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے۔(سنن ابی داؤ د کتاب الصلوة باب البكاء في الصلوة ) ایک دوسری روایت میں یہ آتا ہے کہ: آپ کے سینے سے ایسی آواز اٹھ رہی تھی جیسے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز ہوتی ہے۔(سنن نسائی کتاب السهو باب البكاء في الصلوة حديث نمبر 1213) حضرت ام سلمیٰ فرماتی ہیں کہ آپ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔پھر سو جاتے، پھر اٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔( ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ما جاء كيف كان قراءة النبى صلى ال ) حضرت عائشہ کی ایک اور روایت ہے کہ ایک رات میری باری میں باہر تشریف لے گئے۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ لَكَ فُؤَادِى 146