ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 126 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 126

مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔“ ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 168) اور ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: ”ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صدہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلّت۔کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلاد عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بیشک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلت دیکھتے ہوں گے۔“ انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 33) چاند سورج گرہن کی پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ” مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجود یکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں اللہ تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن ان کا خذلان اور ان کا نامراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگے گا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑ کہ شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا مدعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اول تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہر گز کسوف خسوف نہیں ہو گا بلکہ اس وقت ہو گا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اوّل رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے حالا نکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مراد نہیں اور پہلی تاریخ کے 126