ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 115 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 115

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام بھی شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول! اب تو مکانات گرنے لگے ہیں او رمال بہنا شروع ہو گیا ہے، پس آپ ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اے اللہ ان بادلوں کو ہمارے ارد گر د لے جا اور ہم پر نہ برسا۔آپؐ جس بادل کی ٹکڑی کی طرف بھی اشارہ کرتے تو وہ پھٹ جاتی اور اس بارش سے مدینہ ایک حوض کی مانند ہو گیا تھا۔کہتے ہیں کہ وادی کنات ایک مہینے تک بہتی رہی، جو شخص بھی کسی علاقے سے آتا تو اس بارش کا ذکر کرتا تھا۔(بخاری کتاب الجمعة باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة حديث نمبر (933) قوم پر قحط نازل کرنا اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے اپنا خاص سلوک دکھانے کے لئے ایسے حالات پیدا فرماتا ہے کہ فہمیدہ لو گوں کو خدائے قادر کا وجود نظر آئے حتی کہ کم فہم لوگ بھی اعجازی نشانوں کے گواہ ہوں اور ہدایت حاصل کریں اللہ تعالیٰ قادر ہے چاہے تو قحط ہی نہ پڑے۔قحط پڑ جائے تو صرف نبی اکرم صلی امی کی دعا سے بارش ہو۔بارش ہو تو صرف اتنی جس قدر ضرورت ہو۔اس وقت تک ہوتی رہے جب تک دوبارہ دعا ہو۔اور پھر قحط زدہ علاقے میں نہ ہو ارد گرد ہوتی رہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے نبی کی دعاؤں کی قبولیت کے اعجاز د کھا کر مومنوں کے ایمان مضبوط کرتا ہے۔ابتلا اور امتحان بھی اسی لئے آتے ہیں وہ سمیع اور مجیب خدا بندے کی پکار پر انہیں ٹال کر اپنے جلوے دکھاتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اپنے خادم انس کے لئے دعا کریں۔آپ نے دعا کی اے اللہ ! اس کے اموال اور اس کی اولاد میں برکت ڈال دے اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈال۔(بخاری کتاب الدعوات باب دعوة النبی ﷺ لخادمه بطول العمر وبكثرة المال حديث نمبر 6344) چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ: 115