ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 114 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 114

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تعالیٰ کی جلوہ نمائی کا الگ رنگ لئے ہوئے ہے۔بیشمار واقعات میں سے مختلف مواقع کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ جب قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور نافرمانی کی تو آپ نے ان کے خلاف یہ دعا کی۔اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعَ كَسَبْعِ يُوْسُفَ (بخاری کتاب التفسير ، تفسير سورة الدخان باب ربنا اكشف عنا العذاب۔۔۔حدیث نمبر 4822) آپ نے مسلمانوں پر کفار مکہ کے ظلم پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اے اللہ ! میری مشرکین کے مقابلے پر اس طرح سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرما جس طرح تو نے یوسف کی سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرمائی تھی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا عذاب قحط سالی کی صورت میں نازل ہوا تھا مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا یہاں تک کہ ہر چیز تہس نہس ہو گئی لوگ بھوک سے عاجز آکر ہڈیاں اور مردار کھانے لگے۔ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی عرض کی کہ اے محمد ! آپ کی قوم تو ہلاک ہو گئی ہے، اللہ سے دعا کریں وہ ان سے اس عذاب کو ٹال دے۔آپ نے فرمایا تم اس کے بعد پھر نافرمانی اور سر کشی کرنے لگ جاؤ گے عذاب دور ہونے کے باوجود دوبارہ وہی حرکتیں کرو گے۔تاہم بنی نوع کی ہمدردی کی جو تڑپ آپ کے دل میں تھی اس کے تقاضا کے تحت آپ نے دشمنوں کے لئے دعا کی کہ عذاب دور ہو جائے۔دشمن کو بھی آپ کی دعاؤں پر یقین تھا لیکن ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تھے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے جب عذاب دور کر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اور نبیوں کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ہو پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ سخت قحط پڑ گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک بدو کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مال مویشی خشک سالی سے ہلاک گئے، پس اللہ سے ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں آسمان پر ایک بھی بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا، لیکن خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بادل پہاڑوں کی مانند امڈ آئے۔ابھی آپ منبر سے بھی نہیں اترے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک پر بارش کے قطرات دیکھے۔پھر لگاتار اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔پھر وہی بدو کھڑا ہوا اور راوی کہتے ہیں کہ وہ بدو یا کوئی اور شخص، بہر حال جو 114