ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 376
الية پھر آپ صلی میں کم سجدہ ریز ہو کر وہ حمد باری بجالائیں گے جس کے جواب میں آپ کی تعلیم کو یہ انعام ملے گا کہ اے محمدملی یا آج جو مانگیں گے آپ مالی لی نام کو عطا کیا جائے گا۔تب آپ کی ملی کام اپنی امت کی شفاعت کی دعا کریں گے اور یہ حمد الہی کی ایک عظیم الشان برکت ہے جو آپ کی یہ کلیم کو نصیب ہو گی۔(بخاری بخاری کتاب التفسير سورة البقرة باب قول الله وعلم ادم الاسماء کلھا ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام شانِ احمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے ہیں: شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کون جان سکتا ہے۔وہ اپنی خودی سے اس طرح الگ ہو گیا کہ میم درمیان سے گر گیا۔دافع البلاء صفحہ 20 مطبوعہ 1902ء) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی جو پیشگوئی قرآن شریف میں سورۃ الصف میں درج ہے، اپنے بعد آنے والے کسی ایسے رسول کی آمد کی خبر دیتی ہے جس کا اسم احمد ہو گا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: فر مایا عیسی بن مریم نے کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے ایک رسول ہوں۔مصدق ہوں اس کا جو میرے سامنے ہے۔یعنی تورات اور بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور جس کا اسم احمد ہو گا۔ان سب باتوں سے نتیجہ نکلا کہ حضرت مسیح موعود کا گو پورا نام غلام احمد تھا لیکن نام کا اصل اور ضروری حصہ یعنی وہ حصہ جس نے آپ کی ذات کی خصوصیت پید ا کی، احمد تھا۔اس لئے کوئی حرج نہیں اگر یہ کہا جاوے کہ آپ کا اصل اسم ذات احمد ہی وہوالمراد۔مگر یاد رہے کہ یہ ہم نے شروع میں ہی مان لیا تھا کہ پہلی نظر ہم کو محمد رسول اللہ اور مسیح موعود دونوں کی طرف سے مایوس کرتی ہے لیکن ہاں اگر ان ہر دو رسولوں میں سے کسی ایک پر پیشگوئی کو ضرور اسم ذات کے طور پر ہی چسپاں کرنا ہے تو عقل سلیم کا یہی فتویٰ ہے کہ احمد جس کی پیشگوئی کی گئی تھی وہ مسیح موعود ہی تھے۔خاص کر جب ہم یہ بھی خیال رکھیں کہ سنت اللہ کے موافق پیشگوئیوں میں ضرور ایک حد تک اخفاء کا پردہ بھی ہوتا ہے اور وہ پردہ اس معاملہ میں غلام کے لفظ میں ہے۔جو گو مسیح موعود کے نام کا اصل حصہ نہیں بلکہ 376