ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 315 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 315

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 39 گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو“ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو اعلائے کلمہ حق کا کام سونپتا ہے۔انہیں خالق کو بھولے ہوئے گمراہ لو گوں کو سمجھا بجھا کر سیدھا راستہ دکھانے کا کام کرنے کے لئے نرمی، پیار محبت اور عفو و در گزر سے دل جیت کر خدائے واحد کی طرف لانے کا طریق بتاتا ہے۔صداقت کو دعا اور دلائل سے منوانے کا گر سکھاتا ہے۔انبیائے کرام کی دعوت پر نیک فطرت لوگ بغیر نشان اور دلیل طلب کیسے ایمان لے آتے ہیں۔بعض دلیل سے قائل ہو جاتے ہیں لیکن جاہل، غافل، ہٹ دھرم دلیل اور نشان دیکھ کر بھی مخالف رہتے ہیں۔جب کچھ بن نہیں پڑتا تو گالی گلوچ، سب و شتم، بد زبانی، ایزاد ہی اور مار دھاڑ پر اتر آتے ہیں۔اللہ تعالی کی مدد اپنے فرستادہ کے ساتھ ہوتی ہے وہ انہیں بتدریج بلندیوں کی طرف لے کر جاتا ہے جس سے دشمنوں کے غیظ و غضب جلن اور انتقام کی آگ میں اضافہ ہوتا ہے۔عدو شور وفغاں میں بڑھتا ہے تو اللہ والے صبر اور برداشت سے کام لیتے ہیں یار نہاں میں نہاں ہو جاتے ہیں۔جب ہو گئے ہیں ملزم اترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے سنگ جفا یہی ہے قرآن کریم نے انبیائے کرام سے ایسے سلوک کو محفوظ کیا ہے۔وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ ) اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر ذکر اتارا گیا ہے! یقیناً تو مجنون ہے۔وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ )۔اور کوئی رسول ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کیا کرتے تھے۔( الحجر :81) (الحجر :12) 315