ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 301
آپ کی پیاری بیٹی اکیس سال کی عمر میں وفات پا گئی۔آپ اپنی لختِ جگر کی وفات سے طبعاً مغموم ہوئے۔حضرت فاطمہ جب رسول اللہ صلی اللیل مل کے ساتھ قبر پر حاضر ہو ئیں تو وہ بھی آبدیدہ تھیں۔آپ نے ان کو تسلی دی اور آنسو پونچھے۔حضرت ام کلثوم حضرت ام کلثوم نے بھی اپنی والدہ محترمہ اور بہنوں کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔آپ کا رشتہ غلبہ کے بھائی عیہ سے ہو چکا تھا۔جب سورة المسد یعنی سورۃ اللھب نازل ہوئی تو ان کے باپ ابولہب نے ان سے کہا کہ اگر تم دونوں محملا ایم کی بیٹیوں سے علیحدہ نہ ہوئے تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔یہ رشتے توڑ دو۔اس پر ان دونوں نے رخصتی سے قبل ہی دونوں بہنوں کو طلاق دے دی۔) شرح علامہ زرقانی جزء 4 صفحه 322 323 باب فى ذكر اولاده الكرام، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء ) آنحضرت نے حضرت رقیہ کی وفات کے بعد حضرت اُم کلثوم کی حضرت عثمان سے شادی کر دی اس وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جانے لگا۔الاصابہ فی تمییز الصحابہ لامام حجر العسقلانی، جزء 4 صفحه 377، عثمان بن عفان، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء ) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان سے مسجد کے دروازے پر ملے اور فرمانے لگے کہ عثمان یہ جبریل ہیں انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ام کلثوم کا نکاح رُقیہ جتنے حق مہر پر اور اس سے تمہارے حسن سلوک پر تمہارے ساتھ کر دیا ہے۔( سنن ابن ماجه افتتاح الكتاب فضل عثمان حدیث نمبر (110) آپ نے حضرت ام ایمن سے فرمایا میری بیٹی ام کلثوم کو تیار کر کے عثمان کے ہاں چھوڑ آؤ اور اس کے سامنے دف بجاؤ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔رسول اللہ کی تعلیم تین دن کے بعد حضرت ام کلثوم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔اے میری پیاری بیٹی ! تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ ام کلثوم نے عرض کیا وہ بہترین شوہر ہیں۔(سيرة امير المؤمنین عثمان بن عفان شخصیتہ و عصره از علی محمد الصلابی صفحہ 41 الفصل الاول، ذوالنورین عثمان بن عفان بين مكة والمدينة زواجه من ام كلثوم سنة 3 دار المعرفة بيروت 2006ء) 301