ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 279
قسط 37 دین میں جبر نہیں آنحضرت صل ال نیم مذہب اسلام کے بانی تھے، اسلام کے معنی سلامتی ہیں اسلام میں بلا امتیاز مذہب و عقیدہ ہر انسان کو حریت ضمیر اور آزادی مذہب کے حقوق حاصل ہیں۔تنگ نظری، تعصب اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں کسی انسان سے محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نفرت، تعصب اور تعرض کی اجازت نہیں۔قرآن کریم کا ارشاد ہے: جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے۔(الكهف: 30) آنحضرت عمال الم جو تمام بنی نوع انسان کے لئے خلق عظیم کا عظیم ترین نمونہ تھے آپ نے اس ارشاد خداوندی پر بھر پور عمل فرمایا۔آپ کی بابرکت حیات میں کبھی کسی پر اپنا مذہب چھوڑنے، بدلنے یا اختیار کرنے پر پابندی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آپ کا واسطہ صابیوں، مجوسیوں، عیسائیوں، یہود اور بے دین لامذہب مشرک لوگوں سے پڑا آپ نے سب سے شاندار حسن سلوک فرمایا اور مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں قائم فرمائیں۔بعض معاملات بندے اور خدا کے درمیان ہوتے ہیں۔دین مذہب بندے اور خدا کا معاملہ ہے اور اس نے اس جرم کی سزا کا حق اپنے پاس رکھا ہے۔کسی دوسرے کو حتٰی کہ رسول اللہ کو بھی عقائد بدلنے پر سزا کا اختیار نہیں دیا گیا۔کسی بھی نبی کو کبھی بھی نہیں دیا گیا۔یہ کام مالک یوم الدین نے اپنے ذمے رکھا ہے۔جب بھی انسان نے مذہب کے معاملے میں خدا بننے کی کوشش کی ہے گھاٹے اور تباہی کا سامان کیا ہے۔قرآنی ارشاد ہے: جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں (اور بھی) بڑھ گئے۔اللہ انہیں ہر گز معاف نہیں کر سکتا۔(النساء: 138) اس آیت کریمہ میں حالت ایمان سے کفر میں جانے پر سزا کا ذکر نہیں پھر ایمان لا کر پھر کفر اختیار 279