ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 267
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام واپس نہ لے سکے جس کا صدمہ اُن کے دل پر آخری دم تک رہا۔تاہم حضرت اقدس کی پیدائش سے چند ماہ پہلے پانچ گاؤں واپس مل گئے تھے جس سے کشائش آ گئی۔آپ کی والدہ ماجدہ اکثر فرمایا کرتی تھیں، کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے اور فراخی میسر آگئی اور اسی لئے وہ آپ کی پیدائش کو نہایت مبارک سمجھتی تھیں۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 50) آپ کے والد صاحب ایک عالم اور علم سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔اپنے بچوں کے لئے بہترین اساتذہ کا انتخاب کیا اور بھاری معاوضہ دے کر قادیان بلایا کہ وہ یہاں رہ کر ان کو تعلیم دے سکیں۔حضرت اقدس کو فطری طور پر علم سے لگاؤ تھا اللہ تبارک تعالیٰ آپ کو بڑے منصب کے لئے تیار کر رہا تھا۔کتب بینی خاص طور پر مذہبی کتب پڑھنا آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔آپ کے والد صاحب کہتے تھے کہ ”غلام احمد تم کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں۔جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر 75)۔آپ خود بیان فرماتے ہیں: ”ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے۔کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔“ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 181 حاشیہ) آپ کے والد صاحب بیٹے کی محبت میں چاہتے تھے کہ کچھ کھانے کمانے کی بھی فکر کریں، کہیں نوکری کر لیں۔ایک ایسے ہی پیغام پر آپ نے بصد ادب جواب دیا: ”حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہوچکا ہوں۔“ (سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے) والد صاحب کا پے بہ پے ناکامیوں اور خساروں سے دنیا سے دل اٹھ گیا تھا۔مگر اپنے بیٹے کے دینداری ا کے مشاغل دیکھ کر فکر ہوتا کہ یہ کیسے گزارا کرے گا پھر ملازمت کی کوئی تجویز پیش کی تو آپ نے 267